تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 324
خدامانے جائیں توان کے مختلف قانون ہونے چاہئیں۔یاپھر کم از کم اس میں مختلف تبدیلیاں ہوتی رہنی چاہئیں۔اور اگر ایساہویعنی ایک اٹل قانو ن اورایک قائم سلسلہ قانون قدرت کادنیا میں جاری نہ ہو۔تو تمام علمی ترقیات یک دم بند ہوجائیں گی۔کیونکہ سائنس کی ترقی اورایجادات کی وسعت کی بنیاد اسی پرہے کہ دنیا میں ایک منظم اورنہ بدلنے والاقانون جاری رہے۔اگرانسان کو یہ خیال ہو کہ عالم میں کوئی نظام نہیں۔یایہ کہ نظام بدلتا رہتاہے تووہ کبھی بھی قانون قدر ت کی باریکیوںکے دریافت کرنے کی طرف توجہ نہیں کرسکتا۔توحید کے بعد والدین سے حسن سلوک کے ذکر میں حکمت توحید پریقین رکھنے کاحکم دینے کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کاحکم دیا ہے۔کیونکہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف ہی توجہ دلاتے ہیں۔وہ طبعی قانون کاایک ایساظہور ہیں جوقانون شریعت کی طرف لے جاتاہے۔کیونکہ وہ مبدی(پیداکرنے والی ذات)پر دلالت کرتے ہیں۔والدین کے ذریعہ سے پیدائش بتاتی ہے کہ انسان اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوگیا۔اس سے پہلے کوئی اورتھا۔اوراس سے پہلے کوئی اور۔غرض ایک لمباسلسلہ تھا۔جس سے اللہ تعالیٰ کے وجود پر شہادت ملتی ہے۔بغیرتناسل کے اصول کے انسان کاذہن مبداکی طرف جاہی نہیں سکتاتھا۔اگریہ نظام نہ ہوتاتوانسان کواس لمبی کڑی کی طرف کبھی توجہ ہی نہ ہوتی۔لیکن اس کے ساتھ ہی سلسلہ تناسل یہ بھی بتاتا ہے کہ انسانی پیدائش کی غرض اوراس کامقصد بہت بڑاہے۔پس توحید کے حکم کے بعد والدین کے متعلق احسان کاحکم دیا۔کیونکہ ایک احسان کی قدر دوسرے احسان کی قدر کی طرف توجہ کو پھراتی ہے۔وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا۔اس کاعطف اَنْ پر ہے۔پوراجملہ یہ ہے۔اِنِ احْسِنُوابِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک تویہ حکم دیا ہے کہ خداکے سواکسی کو معبود نہ بنائو۔اورایک یہ کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔اس جملہ میں کیالطیف رنگ اختیار کیاگیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے احسانات کا انسان بدلہ نہیں دے سکتا۔اس لئے خدا تعالیٰ کے ذکر میں یہ بیان کیا کہ احسان توتم کرنہیں سکتے۔پس ظلم سے توبچو۔لیکن والدین کے احسان کابدلہ دیاجاسکتا ہے۔ا س لئے ان کے بارہ میں مثبت حکم دیا۔عِنْدَکَ کے لفظ میں یہ بتایاہے کہ اگروہ تمہاری کفالت میں بھی ہوں توبھی کچھ نہ کہنا۔کجایہ کہ وہ الگ رہتے ہوں۔اورپھر بھی تمہارے ہاتھوں تکلیف پائیں۔کفالت کی خصوصیت اس لئے فرمائی۔کہ ہروقت کے پاس رہنے سے اختلافات زیادہ رونما ہوتے ہیں۔اورپھر یہ بھی قاعدہ ہے کہ انسان جس پر خرچ کرتاہے اس پر اپنا حق بھی سمجھنے لگتاہے۔