تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 320

اورمطلب یہ ہے کہ ایسی کوشش کرتے ہیں۔جوآخرت کے حصول کے مناسب حا ل ہو۔اس میں اس طرف اشارہ کیاہے کہ عام کوشش مفید نہ ہوگی۔بلکہ وہ کوشش فائدہ بخش اورنتیجہ خیز ہوگی جواخروی کامیابی کے مناسب حال ہوگی۔وَھُوَمُؤمِنٌ کہہ کریہ بتایاہے۔کہ حیات آخرت کا مدار قلب کی صفائی پر ہے۔دنیوی کام بعض دفعہ بغیر ایمان کے بھی نفع بخشتے ہیں۔لیکن آخرت کے لئے جوکوشش ہو۔اس میں وہی کام نفع دیتاہے جس کے ساتھ ایمان بھی ہو۔سَعْیٌ مَشْکُوْرٌ کے معنے مَشْکُوْرٌ کے معنے مقبول کے ہیں۔یعنی وہی خداکے ہاں مقبول ہوگا۔جس کے ساتھ ایمان شامل ہو۔وَھُوَ مُوْمِنٌ کا یہ مطلب نہیں کہ مومن کے سواکسی کی نیکی قبول نہیں۔بلکہ یہ مرا دہے کہ اُخروی جزاء پر ایمان رکھتے ہوئے جونیک عمل کرے اُسے اُخروی جزاملے گی۔جواس پر ایمان لانے کے بغیر نیک عمل کرے اس کے عمل کابدلہ اُسے اسی دنیا میں مل جائے گا۔كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَآءِ وَ هٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ ہم سب کو مدددیتے ہیں۔ان کو بھی او ر ان کو بھی (اوریہ مدد)تیرے ر ب کی عطائوں میں سے ہے۔اورتیرے عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا۰۰۲۱ رب کی عطا(کسی خاص گروہ کے لئے )محدود نہیں ہے۔حلّ لُغَات۔نُمِدُّ:نُمِدُّ اَمَدَّسے مضارع جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اوراَمدَّہُ کے معنے ہیں۔اَمْھَلَہُ اسے مہلت دی۔اَمَدَّ اَجَلَہٗ:اَخَّرَہٗ۔اس کی میعاد لمبی کی۔اَمَدَّ الْجُنْدَ:نَصَرَھُمْ بِجَمَاعَۃٍ۔کمک بھیج کر ان کی مدد کی۔اَمَدَّ فُلَانًا بِمَالٍ:اَعْطَاہُ۔اس کومال دیا۔اَعَانَہٗ وَاَغَاثَہٗ۔اَمَدَّ کے ایک معنے مدد کرنے اورفریاد رسی کر نے کے ہیں (اقرب)پس نُمِدُّ کے ایک معنے ہوں گے ہم مدد دیتے ہیں۔المَـحْظُوْر اَلْمَحْظُوْرُ اَلْمَمْنُوْعُ۔محظور کے معنے ہیں۔روکاہوا۔اَلْمُحَرَّمُ وَمِنْہُ فِی الْقُرْاٰنِ وَمَاکَانَ عَطَاءُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًااَیْ مُـحَرَّمًا اورمحظور کے ایک معنے حرام کئے ہوئے کے بھی ہیں۔اورآیت مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ