تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 319

جَھَنَّم: دَارُالْعِقَابِ کا نام ہے۔یہ ممنوع من الصرف ہے۔بعض کے نزدیک یہ لفظ عجمی ہے۔بعض اسے اصل میں فارسی یا عبرانی قرار دیتے ہیں لیکن یہ درست نہیں کہ عربی کے الفاظ کو غیرزبانوں کی طرف منسوب کیا جائے۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لفظ ایسے قاعدہ سے بنایا گیا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔اس وجہ سے اس کو انہوں نے غیرزبان کا قرار دے دیا۔عربی میں جَھَنَ جُھُوْنًا کے معنے قَرُبَ وَدَنَا کے ہوتے ہیں اوراِس سے جَھَنَّمُ بنا ہے یا یہ لفظ جَھَمَ سے بنا ہے۔عربی زبان میں زِیَادَۃُ نُوْنٍ فِی وَسْطِ الْکَلِمَۃِ کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔پس جَھَمَ سے جَھَنَّمُ کا بننا خلاف قواعد نہیں اور جَھَمَ کے معنے ہیں اِسْتَقْبَلَہٗ بِوَجْہِ مُکْفَھِّرٍ۔کہ اس کو تیوری چڑھا کرملا اور تَـجَھَّمَہٗ کے معنے ہیں اِسْتَقْبَلَہٗ بِوَجْہٍ کَرِیْہٍ برے چہرے سے ملا۔(اقرب) پس جَھَنَّمَ کے معنے ہوئے ایک ناپسندیدہ جگہ جو ناراضگی سے لینے کو بڑھتی ہے۔یہ نام اس کے شعلے مارنے کی وجہ سے رکھا گیا۔مَدْحورًا۔مَدْحُوْرًا دَحَرَ(یَدْحَرُ۔دُحُوْرًا)سے اسم مفعول ہے۔اور دَحَرَ کے معنے ہیں۔طَرَدَہُ۔اس کو دھتکارا۔اَبْعَدَہٗ۔اس کو دورکیا۔دَفَعَہٗ۔اس کوہٹایا۔(اقرب)پس مَدْحُوْرٌ کے معنے ہوں گے (۱)دورکیا ہوا (۲)دھتکاراہوا (۳)ہٹایاہوا۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاہے کہ قریب کے فائدہ کو مدنظر نہیں رکھنا چاہیے۔بلکہ ایسے فائدہ کومدنظر رکھنا چاہیے جوبابرکت ہو۔خوا ہ بعد میں ہی ملے۔دوسرے یہ بتایاہے کہ صرف دنیوی ترقیات کوخدا کافضل نہیں قراردینا چاہیے۔کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ بعض اقوام کو دنیوی ترقیات دیتاہے۔لیکن وہ ان پر خوش نہیں ہوتا۔فضل الٰہی وہی ترقیات کہلا سکتی ہیں جن کے ساتھ روحانیت میں ترقی ہو۔وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ اورجس شخص نے آخر ت کی خواہش کی اوراس کے لئے اس کے مطابق کو شش (بھی)کی تو(اس کے متعلق یاد رکھو فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا۰۰۲۰ کہ)ایسے ہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی قد رکی جائے گی۔تفسیر۔سعی مشکور ہی کارگر ہوتی ہے۔سَعْیَھَامیں ھَا کی ضمیر آخرت کی طرف پھر تی ہے۔