تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 318
کہتے ہیں۔اَھْلُ زَمَانٍ وَاحِدٍ ایک زمانہ یا ایک نسل کے لوگوں کو بھی قرن کہتے ہیں۔اُمَّۃٌ بَعْدَ اُمَّۃٍ۔زمانہ کے دور کو بھی کہتے ہیں۔اور اس سے یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کے بعد آرہی ہے۔عربی کا ایک محاورہ قَرْنُ الشَّیْطَانِ بھی ہے اور اس کے بھی دو معنی ہیں۔اَلْمُتَّبِعُوْنَ لِرَأْیِہٖ۔شیطانی لوگ۔تَسَلُّطُہُ۔شیطان کا تسلط۔(اقرب) تفسیر۔یعنی اس قسم کی مثالیں تم کو شروع سے دنیامیں نظرآئیں گی نوح سے لے کر اس وقت تک نبی آتے رہے ہیں سب کے زمانہ میں اسی طرح ہوتاچلاآیا ہے۔وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا کہہ کر یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جوخبیر و بصیر ہے بندوں کو غلط راستہ پر چلتے دیکھ کر کس طر ح خاموش رہ سکتاہے۔یہ فقرہ بھی ان معنوں کو رد کرتا ہے جو اوپر کی آیت کے بعض نادانوں نے کئے ہیں۔کیونکہ اس میں بتایا ہے کہ معذب لوگ پہلے سے گنہ گار ہوتے ہیں یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو گنہ گا ر بناتا ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ جوشخص (صرف )دنیاکاخواہاں ہو ہم اسے (یعنی ایسے لوگوںمیں سے)جس کے متعلق ہم (کچھ دینے کا)اراد ہ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا کرلیتے ہیں۔اس (دنیا)میں جوکچھ چاہتے ہیں جلد(ہی)دےدیتے ہیں۔پھر ہم اس کے لئے جہنم کو مخصوص مَّدْحُوْرًا۰۰۱۹ کردیتے ہیںجس میں و ہ مذموم ہوکر(اور)دھتکاراجاکر داخل ہو گا۔حلّ لُغَات۔اَلْعَاجِلَۃُ۔اَلْعَاجِلَۃُ عَاجِلٌ (اسم فاعل عَجَلَ)سے مؤنث ہے۔اورعَجَلَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں۔اَسْرَعَ۔اس نے جلدی کی۔نیز اَلْعَاجِلَۃُکے معنے ہیں اَلدُّنْیَا۔دنیا (اقرب) قَوْلُہٗ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ اَیْ اَلْاَعْرَاضَ الدُّنْیَوِیَّۃُ آیت مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ میں اَلْعَاجِلَۃَ سے مراد دنیوی سامان ہیں (مفردات) جہنّمجَہَنَّمَ کےلئے دیکھو رعدآیت نمبر ۱۹۔