تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 314
اس کے متعلق قرآن کریم میں دوسری جگہ آتاہے۔كُلَّمَاۤ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ۔قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِيْرٌ(الملک:۹،۱۰)کہ جب کبھی کوئی گروہ اورقوم جہنم میں ڈالی جائے گی۔توان سے دریافت کیاجائے گاکہ تمہار ے پاس کوئی ڈرانے والاآیا۔تووہ کہیں گے کہ ہاں۔ہمارے پاس نبی آیا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہرقوم میں نبی آئے۔اسی طرح ایک اورجگہ فرمایا ہے۔اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَ يُنْذِرُوْنَكُمْ۠ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا(الزمر:۷۲)کہ کیا تمہارے پاس رسول نہ آتے رہے جو تم کو اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے۔ایک اورجگہ فرماتا ہے۔اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِيْرُ (الفاطر :۳۸)کیاتم کو ہم نے اس قدر عمر نہیں دی کہ جس کی سمجھنے کی نیت ہوتی۔اس میں سمجھ سکتاتھا اورپھر اسی پر بس نہیں کی۔بلکہ تمہارے پاس ہوشیار کرنے کے لئے رسول بھی بھیجے۔اسی طرح قصص رکوع ۶ میں فرماتا ہے وَمَاکَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثُ فِیْ اُمِّھَا رَسُوْلًا(آیت :۶۰)۔تیرے خدا کی شان کے خلا ف ہے کہ وہ اس کے مرکزی مقام میں نبی بھیجے بغیر کسی بستی کو ہلاک کردے۔اورپھر سورہ قصص ع ۵ میں فرمایا وَلَوْلَٓااَنْ تُصِیْبَہُمْ مُّصِیْبَۃٌ بِمَاقَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ فَیَقُوْلُوْارَبَّنَا لَوْلَٓااَرْسَلْتَ اِلَیْنَارَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ وَ نَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (آیت :۴۸) یعنی اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ ان لوگوں کو اپنے اعمال کی وجہ سے کوئی عذاب پہنچا۔تویہ کہہ دیں گے کہ اے ہمارے رب کیوں نہ آپ نے ہماری طرف رسول بھیجاکہ ہم ذلیل وخوار ہونے سے پہلے آپ کے احکام کی تعمیل کرتے۔توہم ان کو بغیر رسول بھیجے کے ہی عذاب دے دیتے مگرچونکہ یہ عذر ا ن کامعقو ل ہوتا۔ہم نے اس عذر کوتوڑ دیا ہے۔اورہمیشہ پہلے رسول بھیجتے ہیں۔پھر اس کے انکا ر کے بعد عذاب لاتے ہیں۔ان تمام آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت الٰہی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر رسول بھیجنے کے کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا۔یعنی اتنے وسیع علاقہ پر جونبیءِ وقت کا مخاطب ہو اس وقت تک عذاب نہیں آتا۔جب تک پہلے ایک اورنبی خواہ وہ پہلے نبی کاتابع ہی کیوںنہ ہو ظاہر ہو کر لوگوں کو ہوشیار نہ کردے۔دنیا میں جن پر حجت تمام نہیںہوتی ان کے لئے قیامت میں بعثت رسول یہاں سوال ہوسکتا ہے کہ وہ لو گ جن پر حجت تمام نہیں ہو ئی ان کا کیا حا ل ہوگا۔تواس کا جواب مسند احمد بن حنبل کی روایت میں ہے جو ابوہریرہؓ نے بیان کی ہے اِنَّ النَّبِیَ صَلَّے اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہ وَسَلَّمَ قَالَ اَرْبَعَۃٌ یَحْتَجُّوْنَ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ رَجُلٌ اَصَمُّ لَایَسْمَعُ شَیْئًاوَرَجُلٌ اَحْمَقُ وَرَجُلٌ ھَرَمٌ وَرَجُلٌ مَاتَ فِی فَتْرَۃٍ فَاَمَّا الْاَصَمُّ فَیَقُولُ رَبِّ لَقَدْ جَآءَ الْاِسْلَامُ وَمَااَسْمَعُ شَیْئًا وَاَمَّاالْاَحْمَقُ فَیَقُوْلُ جَآءَ الاِسْلَامُ وَالصِّبْیَانُ یَخْذِفُوْنَنِیْ بِالْبَعْرِ وَاَمَّا