تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 313
سکتی۔عیسائی اس آیت سے بڑے خوش ہوتے ہیں کہ لوکفارہ ثابت ہوگیا۔کیونکہ ہم بھی یہی کہتے ہیں۔کہ گناہ گار گناہ گار کابوجھ نہیںاٹھاسکتا۔مگر جو نیک ہے و ہ دوسرے کا بوجھ اٹھاسکتا ہے۔پس مسیح جونیک تھا۔اس نے دوسروں کے بوجھ اٹھالئے اوردوسراکو ئی نیک نہیں۔پس اورکوئی بوجھ نہیں اٹھاسکا۔کفار ہ کا ردّ میں اس جگہ اس سوال میں نہیں پڑتاکہ مسیحی عقیدہ کے رُو سے مسیح نیک تھا یانہیں۔نہ اس سوال میں پڑناچاہتاہوںکہ اسلامی عقید ہ کے روسے مسیح کے سوابھی کوئی نیک ہے یانہیں۔اس کی تفصیل کایہ موقعہ نہیں۔اس وقت ان کے جواب میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ اس آیت میں توصرف یہ بتایا گیا ہے کہ خواہ انسانی اعمال برے ہوں یا اچھے۔خود اس کے لئے ہوتے ہیں انہیںکوئی دوسر انہیں اٹھاسکتا۔مطلب یہ کہ سزاجزاء کوئی بیرونی شے نہیں بلکہ ثمرئہ عمل کانام ہے۔اوریہ ظاہر ہے کہ جس جگہ بیج بویا گیا ہے وہیں وہ پھل دے گا۔دوسری جگہ وہ پھل نہیں دے سکتا ایک آم جو لاہور میں لگا ہو امرتسر میں پھل نہیں دے سکتا۔پس جب سزاجزاء خود عمل کرنے والے کے نفس سے پیداہوتی ہے تواسے کوئی دوسرانہیں بانٹ سکتا یااپنے ذمہ نہیں لے سکتا۔پس اس مضمون میں کفار ہ کا رد ہے نہ کہ اس کی تائید۔کفار ہ کی بنیاد تواس خیا ل پر ہے کہ سزاایک بیرونی بوجھ کی طرح ہے۔پس دوسراشخص بھی اسے اٹھا سکتاہے۔مگر ا س آیت میں ا س عقیدہ کورد کیا گیا ہے۔عیسائیوں کا دوزخ کو مادی قرار دینا حماقت ہے اسی اعتراض سے بچنے کے لئے مسیحیو ں نے دوزخ کو مادی قرار دیا ہے(Catechism of Christian Doctrine vol:2 p۔599)۔حالانکہ یہ حماقت کی بات ہے کہ جنت توروحانی ہو۔اوردوزخ مادی ہو۔یادونوں روحانی ہوںگی یا دونوں مادی۔اگرروحانی ہوں گی توپھر کو ئی شخص کسی دوسرے کی سزانہیں اٹھاسکتا۔کیاکوئی شخص دوسرے کی ندامت ،حرص، رنج ،غضب وغیر ہ کو بانٹ سکتا ہے ؟ اسی لئے نہیں بانٹ سکتاکہ یہ چیز یں انسان کے اندر سے پیداہوتی ہیں۔اوران کے پیداکر نے میں خود اس کے نفس کادخل ہوتا ہے اس قسم کی سزااسی صورت میں مٹ سکتی ہے جب نفس حقیقتاً فناہوجائے یامعنوی طور پر فنا ہو جائے۔یعنی ندامت کے احسا س کے ساتھ اس میں پاکیز گی پیداہوجائے۔اس قسم کی فنا میں کوئی دوسراشخص کسی طرح بھی شریک نہیں ہوسکتا۔کوئی معقول آ دمی کسی دوسرے کو یہ نہیں کہہ سکتا۔کہ میا ں بہت شرمندہ نہ ہو میں تمہاری جگہ شرمندہ ہولیتا ہوں۔ایک فاترالعقل ہی ایسا کہہ سکتا ہے۔پھر کیوں مسیحی خداکے برگزیدہ مسیح کے منہ سے یہ الفاظ کہلا کر اس کی ہتک کرتے ہیں۔وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔اورہم سزانہیں دیاکرتے۔یہاں تک کہ ہم ایک رسول بھیج لیں۔