تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 309
کرتے وقت دعا کے طور پر کہتے ہیں۔سِرْ عَلَی الطَّائِرِالْمَیْمُوْنِ۔کہ مبارک شگون پر چل۔اورجب ھُوَ سَاکِنُ الطَّائِرِکہیں تواس کے معنے ہوتے ہیں۔حَلِیْمٌ ھَادِیٌ کہ و ہ بردبار متحمل اورسنجیدہ ہے(اقرب)پس اَلْزَمْنٰہُ طَائِرَہٗ فِی عُنُقِہٖ کے معنے ہوں گے کہ ہم نے ا س کے عمل کو اس کی گردن میں باندھ دیا ہے۔منْشُوْر مَنْشُوْرٌنَشَرَسے اسم مفعول ہے اور نَشَرَ الْکِتَابَ کے معنے ہیں۔بَسَطَہُ۔اس کو کھولا (اقرب) پس مَنْشُوْرٌ کے معنے ہوں گے کھولاہوا۔تفسیر۔اس آیت میں فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کاعمل اس کی گردن میں باندھ دیا ہے۔یاگردن کے ساتھ چسپاں کردیاہے اورقیامت کے دن اسے اس کے سامنے ایک کتاب کی صورت میںنکالیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گایعنی اس کے مطابق اس سے سلوک ہوگا۔کیونکہ کھاتہ کارجسٹر یاحساب لکھنے کے لئے کھولاجاتاہے یاحساب چکانے کے لئے۔انسان کا کوئی فعل ضائع نہیں ہوتا اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہرانسان کو سمجھ لیناچاہیے کہ اس کاکوئی فعل ضائع نہیں ہوتا۔کیونکہ ہم نے اس کے ساتھ اس کاعمل گردن میں چسپاں کردیاہے۔گردن میں چسپاں کرنے کے الفاظ یہ بتانے کے لئے استعمال کئے ہیں۔کہ اس کے ساتھ اس کاتعلق دائمی ہے۔جب تک وہ رہے گا اس کے اعمال کااثربھی رہے گا۔عمل کے لئے جو طائر کالفظ استعمال کیاگیا ہے اس سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جیسے طائراڑجاتاہے اورنظر نہیں آتا۔ویسے ہی انسان اپنے عمل کو بھو ل جاتا ہے بلکہ دوسرے لوگ بھی بھول جاتے ہیں۔لیکن یہ طائروہ ہے جو ایک رسی سے انسان کی گردن سے بندھاہواہے۔اس لئے گو وہ اُڑجائے اورنظر نہ آئے مگراس سے تعلق انسان کانہیں ٹوٹتا۔ایک نہ ایک دن اس کے نتائج ظاہر ہوکرہی رہتے ہیں۔دوسرے یہ بتایاہے کہ جیسے پرند ے کے پائوں میںلمبی رسی باندھ کر اسے چھوڑ دیاجاتاہے تووہ رسی کی حد تک اڑ کر چلا جاتا ہے۔اسی طرح انسانی اعمال کاحال ہے کہ بعض دفعہ وہ معمولی نظر آتے ہیں لیکن ان کااثر دورتک جاتا ہے۔انسانی اعمال کی بندھے ہوئے پرندے سے مشابہت اس آیت میں انسان کو بتایا ہے کہ انسان کو اپنے اعمال میں بہت ہوشیار اور محتاط رہنا چاہیے۔کیونکہ جب کیاہواعمل اسکے اختیار میں نہیں رہتا۔اوراس کااثر بھی بہت وسیع ہے۔نظروں سے بھی غا ئب ہے اورساتھ بھی لگاہواہے۔توان سب باتوں سے معلوم ہوا۔کہ اس کامٹانابہت