تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 310

مشکل امر ہے۔پس بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔اس کے عمل کانتیجہ خوا ہ جلدی نکلے خواہ دیر سے۔مگر نکلے گاضرور۔کیونکہ گو بعض دفعہ یوں معلوم ہوتاہے کہ وہ پرندہ کی طرح اُڑ گیاہے مگرچونکہ یہ پرندہ گردن سے بندھا ہواہے آخر ایک دن واپس آئے گا۔اورانسان کواپنے کئے کامزہ چکھناپڑے گا۔دوسری جگہ قرآن کریم میں فرمایا کہ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَّرَہٗ۔وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ (الزلزال:۸،۹)کہ کوئی شخص اگر سرخ چیونٹی کے برابر بھی نیک یابدعمل کرے گایاہواکے ذرّہ کے برابر بھی نیک یابد عمل کر ے تووہ اس کاانجام ضروردیکھ لے گا۔اس آیت کایہ مطلب نہیں کہ توبہ قبول نہ ہوگی توبہ توضرو رقبول ہو گی۔مگر گناہ کرنے والاپیچھے ضروررہ جائے گا مثلا ً فرض کرلو کہ دوانسان ہیں جو نیکی میں برابرہیں ان میں سے ایک نے ایک بدی کی۔اورپھر توبہ کی۔اس کے گنا ہ کو تواللہ تعالیٰ ضرو رمعاف کردے گا۔مگر جب اس نے بدی کی۔دوسرے شخص نے اس کے مقابل نیکی کی۔تویہ توبہ کرنے والاتواسی پہلے درجہ پر رہا۔مگر دوسرااس سے آگے نکل گیا۔پس اس غلطی کرنے والے شخص کو خدا تعالیٰ معاف تو کردے گا۔لیکن یہ نہ ہوگاکہ اس کو اس دوسرے شخص کے ساتھ ملادے جس نے بدی نہیں کی تھی۔وہ توبہرحال اس سے ایک درجہ بڑھاہی رہے گا۔پس ہرعمل کاایک اثر ہے جو باقی رہتاہے۔وائر لیس سے ایک سبق اب تواللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو سمجھانے کے لئے انسان کو وائرلیس ٹیلیگرافی یا ٹیلیفون کاعلم بھی بخش دیا ہے۔جس سے ثابت ہوتاہے۔کہ باریک سے باریک حرکت بھی جوّمیں دورتک مرتعش ہوتی چلی جاتی ہے۔ہر عمل بیج کی طرح بڑھتا رہتاہے پس انسان کو اپنے اعما ل میں بہت محتاط ہوناچاہیے۔کیونکہ ہرعمل ایک بیج کی طرح ایک نیا پودا پیدا کرتاہے۔جوبغیر اس کے علم کے بڑھتا رہتاہے۔حدیث میں آتاہے کہ ہرعمل کااثر انسان کے قلب پر ہوتاہے۔اگر نیکی کرے تواس کے قلب پر نورکاایک نشان پیداہو جاتا ہے۔اوربدی کرے تو ایک سیاہ نشان پڑ جاتاہے۔اسی طرح نیکی کرنے والے شخص کے دل پرنیکیوں کانوربڑھتارہتاہے۔حتیٰ کہ اس کاسارادل روشن ہو جاتا ہے اوروہ نجات پاجاتاہے اوربدی کرنے والے کے دل پر سیاہ دھبے بڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن سارادل سیاہ ہو جاتا ہے اوروہ شخص ہلاک ہو جاتا ہے۔(ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر الذنوب)بعض لوگوں نے طائر کے معنے قسمت کے کئے ہیں(تفسیر قرطبی زیر آیت ھذا) مگریہ معنے اس کے نہیں ہوسکتے کیونکہ طٰٓىِٕرَهٗ کہہ کر یہ بتایاگیاہے کہ اپنے عمل کاپیداکرنے والا خود انسان ہی ہے خدا تعالیٰ نے جومقررکردیا۔وہ توپتھر کہلائے گا یاطوق طائرہ نہیں کہلاسکتا۔