تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 308

سورج اور چاند کی گردش کا تعلق حساب سے اسی طرح سورج اورچاند کی گردش کاتعلق بھی حساب سے ہے۔اس پر غور کرتے ہوئے انسان کو باریک در باریک حساب سے واسطہ پڑتا ہے۔چنانچہ آج تک شمسی حساب کوانسان مکمل نہیں کرسکا۔اورشمسی سال کی تعیین میں غلطیاں کرتاچلاآیاہے جسے علم حساب کی ترقی کے ساتھ ساتھ دورکیاجارہا ہے۔رات کی تاریکی اور دن کی روشنی انسان کی جسمانی ترقی کا ذریعہ ہیں اس آیت میں یہ بتلایاگیاہے کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ترقی کا نشان ہوتاہے۔اورایک مٹنے کا نشان ہے۔پس تم ایسے نشان طلب کرو جن کے ذریعہ سے ترقی ہو۔ایسانشان نہ مانگو جس سے تم مٹ جائو۔اورترقی اورتنزل دونوں حالتوں کو روحانی کمالات کے حصو ل کاذریعہ بنائو۔جس طرح رات جو تاریکی کا نشان ہے۔اوردن جوروشنی کا نشان ہے۔دونوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری جسمانی ترقی کاذریعہ بنادیا ہے نہ تکلیف کے وقتوں میں خدا کوبھولو نہ کامیابی کے وقتوں میں اس کو چھوڑو۔وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ اور(ہم نےذمہ وار بنایا ہے )ہرانسان کو (اس طرح کہ )ہم نے اس کی گردن میں اس کے عمل کوباندھ دیا ہے يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا۰۰۱۴ اورہمقیامت کے دن اس (کے اعمال )کی ایک کتاب نکال کراس کے سامنے رکھ دیں گے جسے وہ (بالکل)کھلی ہوئی پائےگا۔حلّ لُغَات۔اَلْزَمْنٰہُ اَلْزَمْنٰہُ اَلْزَمَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اوراَلْزَمَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں۔اَثْبَتَہُ وَاَدَامَہُ۔کسی چیز کو ہمیشہ رکھا۔اَلْزَمَ فُلَانًا الْمَالَ والعَمَلَ اَوْجَبَہ عَلَیْہ۔اس پر کسی کام کو کرنا یاکسی مال کو اداکرنا واجب کردیا۔(اقرب) طَائِرٌ اَلطَّائِرُ کُلُّ ذِیْ جَنَاحٍ مِنَ الْـحَیَوَانِ۔پرندہ۔نیز اس کے معنے ہیں۔اَلْحَظُّ۔نصیب۔رِزْقُ الْاِنْسَانِ۔انسان کی روزی۔عَمَلُہُ الَّذِی قُلِّدَ ہُ وَطَارَعَنْہُ مِنْ خَیْرٍ اَوْشَرٍّ۔انسانی اعمال خواہ اچھے ہوں یا برے۔کہتے ہیں ھُوَمَیْمُوْنُ الطَّائرِ:اَیْ مُبارَکُ الطَّلْعَۃِ۔وہ مبارک چہرے والا ہے۔نیز مسافر کو رخصت