تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 307

عَدَدَ السِّنِيْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا۰۰۱۳ نے ہرایک چیز کو خوب کھول کربیان کردیاہے۔حلّ لُغَات۔مُبْصِرَۃٌ مُبْصِرَۃٌ اَبْصَرَسے اسم فاعل مؤنث کاصیغہ ہے اوراَبْصَرَہُ (متعدی)کے معنے ہیں جَعَلَہٗ بَصِیْرًا۔اس کو دیکھنے والابنادیا(یعنے دکھایا)اَبْصَرہٗ :رَاہُ۔اس کودیکھا۔اَخْبَرَہُ بِمَاوَقَعَتْ عَیْنُہُ عَلَیْہِ۔اس کو وہ بات بتائی جس پر اس کی نظرپڑی تھی۔اَبْصَرَ الطَّرِیْقُ(لازم)اِسْتَبَانَ وَوَضَحَ۔راستہ واضح ہوگیا۔(اقرب)پس مُبْصِرَۃً کے معنے ہوئے بینائی بخشنے والی۔مَـحَوْنَا:مَـحَوْنَا مَحٰی سے جمع متکلم کاصیغہ ہے اورمَـحَاالشَّیْءَ (یَمْحُوْ)کے معنے ہیں۔اَزَالَہٗ وَاَذْھَبَ اَثَرَہُ۔کسی چیز کو مٹادیا اوراس کے اثر کودورکردیا (اقرب) وَالْمَحْوُ: اَلسَّوَادُ فِی الْقَمَرِ۔اورمحوچاند کے بے نور حصہ کو بھی کہتے ہیں (تاج )پس مَـحَوْنَااٰیَۃَ اللّیْلِ کے معنے ہوں گے کہ رات والے نشان کو ہم نے مٹادیا (۲)بے نورکردیا۔فَضْلًا: اَلفَضْلُ(فَضَلَ الشَّیْءُ یَفْضُلُ)کامصدرہے۔اوراس کے معنے ہیں۔ضِدُّالنَّقْصِ۔خوبی۔فضیلت۔اَلْبَقِیَّۃُ۔بقیہ (حاصل تفریق کوبھی انہی معنوں میں فضل کہتے ہیں )اَلزِّیَادَۃُ۔زیادتی۔اَ لْاِحْسَانُ۔احسان۔وَالْفَضْلُ فِی الْخَیْرِوَ یُسْتَعْمَلُ لِمُطْلَقِ النَّفْعِ۔نفع(اقرب) العدد:اَلْعَدَدُ اِسْمٌ مِنْ عَدَّبِمَعْنَی الْاِحْصَاءِ یہ عدّکااسم ہے۔اوراس کے معنے ہیں۔شمار۔گنتی۔الْمَعْدُوْدُ۔شمار کیاہوا۔اس کی جمع اعداد آتی ہے (اقرب)پس لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ کے معنے ہوں گے کہ تم سالوں کی گنتی کو معلوم کرسکو۔تفسیر۔فَمَحَوْنَاۤ اٰيَةَ الَّيْلِ میں فاء تعقیب کی نہیں۔یعنی یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ نے پہلے رات اوردن بنائے پھران میں سے ایک کو مٹادیا۔بلکہ یہ فاء تفسیر ی ہے۔اورمطلب یہ ہے کہ ہم نے رات اوردن کو اس صورت میں بنایاہے کہ رات تو ایک مٹاہوانشان ہے۔اوردن ایک روشن نشان ہے۔یعنی رات سے مخفی فائدہ پہنچتاہے اوردن سے ظاہر۔اوریہ دونوں اپنی اپنی جگہ نفع بخش ہیں۔چنانچہ دونوں کے ذریعہ تم نفع حاصل کرتے ہو۔اور تاریخوں کاعلم ان کے ذریعہ سے حاصل کرتے ہو۔نیزحساب کافائدہ بھی حاصل کرتے ہو۔تاریخ کافائدہ توظاہر ہی ہے۔حسا ب کاعلم اس طرح کہ لمبی تاریخ کویاد رکھنے سے ہی حساب پیدا ہوتا ہے۔نیز اس طرح کہ سال کا وقت تجویز کرنے کاتعلق چاند اورسورج سے ہے اورصحیح جنتری سو رج کی رفتار کے علم کے بغیر نہیں بن سکتی۔