تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 306
طرح وہ خیر کو بلارہاہوتاہے۔یعنی انسان بھی عجیب ہے کہ منہ سے توخیر مانگ رہاہوتاہے۔یعنی خواہش تویہی رکھتاہے کہ اسے ہرقسم کی خیر مل جائے۔مگرعمل کے لحاظ سے وہ شرّکوبلارہاہوتاہے۔گویا اپنی نادانی سے ایک ہی وقت میں دومتضاد باتیں طلب کرتاہے منہ سے خیر اورعمل سے شر۔ان معنوں کے روسے اس آیت کامطلب یہ ہوگاکہ اصل کامیابی تب ہوتی ہے جب انسان کادل اوراس کاعمل متفق ہوں۔یعنی اگردل سے خیر مانگتاہے تواعمال سے بھی خیر ہی مانگے۔(۳)تیسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہٗ کی ضمیر کو انسان کی طرف پھیراجائے۔اوراسے مفعول کی ضمیر قرار دیاجائے۔اوردعا کافاعل خدا تعالیٰ کوقرار دیاجائے۔اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ انسان شرکواسی جوش سے بلاتا ہے جس جوش سے اللہ تعالیٰ اس کو یعنی بندہ کو خیر کی طرف بلارہاہوتاہے۔یعنی ہم توکہتے ہیں کہ اے انسان تُو بھلائی کی طرف آ۔مگر وہ کہتاہے اے بلاتُو میر ی طرف آ۔ان معنوں کے روسے اس آیت کایہ مطلب ہوگاکہ ہم توانسانوں کے لئے خیر کے سامان مہیاکررہے ہیں۔مگر ان میں سے بعض اپنے اعمال سے شرکو بلانے میں لگے ہوئے ہیں اوراپنی تباہی کاساما ن پیداکررہے ہیں۔عَجُوْلًا کے لفظ میں اس حقیقت کو ظاہر کیاکہ انسان غوروفکر سے کام نہیں لیتا۔اگروہ غوراورفکر سے کام لے توضرور اسے معلوم ہوجائے کہ میں غلطی کررہاہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصے والا انسان اگرذراٹھہر جائے تواس کاغصہ ضرور کم ہوجائے۔اوراسے سوچنے کاموقعہ ملے۔(مسند احمد مسند ابو ذر غفاری) تمام بدیوں کی وجہ جلد بازی ہوتی ہے تمام بدیوں کی وجہ جلد بازی ہی ہوتی ہے۔اگرایک انسان بدی کے وقت ذراتأنّی سے کام لے اورپہلے سوچ لے کہ یہ کام میرے لئے مفیدہے یامضر۔تویقیناًوہ اس بدی سے بچ جائے۔وَ جَعَلْنَا الَّيْلَ وَ النَّهَارَ اٰيَتَيْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰيَةَ الَّيْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اورہم نے رات اوردن (کے)دونشان بنائے ہیں اس طرح پر کہ رات والے نشان کے اثر کوتوہم نے مٹادیا اور اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا دن والے نشان کو ہم نے بینائی بخشنے والابنادیا۔تاکہ تم (آسانی سے )سالوں کی گنتی اورحساب معلوم کرسکو اورہم