تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 304
وَ يَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَيْرِ١ؕ وَ كَانَ اورجس طرح انسان ؎۱ بھلائی کو اپنی طرف بلاتا ہے اسی طرح وہ برائی کو بھی اپنی طرف بلاتاہے اورانسان بڑا الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا۰۰۱۲ جلد باز (واقع ہوا)ہے۔؎۱ قرآنی الفاظ میں انسان کالفظ برائی کو پکارنے کے ساتھ استعما ل ہواہے او روہ کی ضمیر بھلائی کو پکارنے کے فقرہ میں استعمال ہوئی ہے لیکن اردومیں چونکہ بھلائی کا ذکر پہلے ہے اوربرائی کابعد میں کرنا پڑا۔اس لئے انسان کالفظ مجبوراً بھلائی کے ساتھ اوروہ کی ضمیر برائی کے ساتھ لگانی پڑی۔حلّ لُغَات۔یَدْعُ الانسانُ۔یَدْعُوْدَعَاسے مضارع واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے اوردَعَاہُ (یَدْعُوْ دُعَاءً وَدَعْوًا) کے معنے ہیں۔رَغِبَ اِلَیْہ۔اس کی طرف متوجہ ہوا۔دَعَازَیْدًا: اِسْتَعَانَہُ۔زید سے مدد طلب کی۔دَعَافُلَانًا:نَادَاہُ وَصَاحَ بِہِ۔اس کوپکارا۔دَعَاہُ اِلَی الْاَمْرِ :سَاقَہُ اِلَیْہِ۔کسی کام کی طرف اسےلے گیا۔دَعَافُلَانًا(دَعْوَۃً وَمَدْعَاۃً)طَلَبَہُ لِیَاْکُلَ عِنْدَہُ۔اسے کھانے کی دعوت دی (اقرب) دَعَابِہِ : اِسْتَحْضَرَہُ اسے آنے کی دعوت دی (المنجد)کُلُّ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ اِذَا اِحْتَاجَ اِلٰی شَیْءٍ فَقَدْ دَعَابِہ لِمَنْ اَخْلَقَتْ ثِیَابُہُ قَدْ دَعَتْ ثِیَابُکَ اَیْ اِحْتَجْتَ اِلَی اَنْ تَلْبَسَ غَیْرَھَا۔جب کسی طرح کسی چیز کی احتیاج دوسری چیز کی طرف معلوم ہو تواس احتیاج کو ظاہرکرنے کےلئے بھی دعا کافعل باء کے صلہ کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔چنانچہ کسی پرانے کپڑوں والے کو جب دَعَتْ ثَیَابُکَ کہیں تواس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس کے کپڑے اس بات کی ضرورت کوظاہر کرتے ہیں کہ ان کواتار کر ان کی جگہ اورکپڑے تبدیل کئے جائیں دَعَابِالْکِتَابِ کے معنے ہیں۔اِسْتَحْضَرَہُ۔کہ کسی کتا ب کو حاصل کرنے کی خواہش کی (تاج) اَلْخَیْرُ اَلْخَیْرُکے معنوں کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۱۲ نحل آیت نمبر ۳۱۔اَلْعَجُوْلُ: اَلْعَجُوْلُ عَـجَلَ سے مبالغہ کاصیغہ ہے اوراَلْعَجُوْلُ کے معنی ہیں۔اَلْمُسْرِعُ۔جلدی کرنے والا۔اَلْکَثِیْرُ الْعُجْلَۃِ۔جلدباز (اقرب) تفسیر۔یہ آیت ان معنوں کی تصدیق کرتی ہے جومیں نے اوپر کی آیت کے کئے ہیں۔کیونکہ اس میں