تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 305

اسی مضمو ن کی تشریح کی گئی ہے قیامت کا ذکر نہیں کیاگیا۔بلکہ اگلی آیتوں میں بھی وہی مضمون بیان ہواہے۔یَدْعُ الْاِنْسَانُ کا مطلب اور دَعَا ہُ کے مختلف معنی اس سے پہلے کہ میں ا س آیت کامفہوم بتائوں۔میںاس آیت کاترجمہ سمجھادیتاہوں۔دَعَاہُ کے معنے اسے پکارنے اس کی طرف توجہ کرنے اوراس سے مدد مانگنے کے ہوتے ہیں لیکن دَعَابِہِ کے معنے اسے اپنے پاس آنے کی دعوت دینے کے ہوتے ہیں۔پس اس آیت کامفہوم یہ نکلتاہے کہ جبکہ انسان ظاہری طور پر خیر کوبلارہاہوتاہے وہ حقیقت میں شرکوبلارہاہوتاہے یایہ نکلتاہے کہ خیر کو بلانے کاجو حق ہے اس کی مانند و ہ شرکو بلاتا ہے۔قوموں کو ترقی دینے سے اللہ تعالیٰ کی غرض ان دونوں معنوں کے روسے آیت کامطلب یہ ہے کہ جب قوموں کوترقی ملتی ہے و ہ اس امر کو بھول جاتی ہیں کہ یہ ترقی انہیں اس لئے ملی ہے کہ تاوہ دین و دیانت کو قائم کریں اوربنی نوع انسان کے لئے امن اورترقی کے سامان پیداکرکے خداکے فضلوں کو حاصل کریں۔اور وہ دنیاوی نعمتوںکوجمع کرنے میں مشغول ہوجاتی ہیں۔اورلوگوں کے حقوق کو نظرانداز کردیتی ہیں۔اوردنیوی عیش و آرام کے سامان جمع کرکے یہ سمجھتی ہیں کہ وہ اپنے لئے اوراپنی اولادوں کے لئے خیر کے سامان جمع کررہی ہیں۔حالانکہ حقیقت میں وہ اس ذمہ واری کوبھول کرجوان کے کندھوں پررکھی جاتی ہے اپنی تباہی کے سامان پیداکررہی ہوتی ہیں اورآخر تباہ ہوجاتی ہیں۔قوم کی ترقی کا وقت ہی زیادہ نازک ہوتا ہے پس کسی قوم کوترقی ملنے کا وقت اس کے لئے بہت نازک ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد اصل خیر اس کی نظرسے پوشیدہ ہوجاتی ہے اورشرّکو خیرسمجھ کر وہ اپنے راستہ سے بھٹک جاتی ہے۔وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا کہہ کر اس طرف اشار ہ کیاہے کہ مومن کو جو خیر ملتی ہے وہ تومرنے کے بعد ملتی ہے۔اس دنیا کی فتوحات اس خیر کے حصہ کے لئے مواقع بہم پہنچانے کے لئے د ی جا تی ہیں لیکن بعض لوگ جلدی کرتے ہیں اوراس دنیا کی ترقی کو اصل خیر سمجھ کر اس کے سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں۔اورخود اپنے اعمال سے اپنی تباہی کے سامان جمع کرلیتے ہیں۔غرض ا س آیت میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر کسی قوم کو ترقی ملے مثلاًحکومت ملے۔جاہ وثروت ملے تواسے ایسے کام کرنے چاہئیں کہ وہ نعمت قائم رہے۔اوراس کے ذریعہ سے اُخروی خیر کاذخیر ہ جمع ہوتا رہے۔نہ کہ ایسے کام جس سے و ہ جلدی زائل ہوجائے اوراُخروی انعامات کے حصول کے مواقع ہاتھ سے نکل جائیں۔دُعَائَ ہٗ بِالْخَیْرِ کے ایک معنی تواوپر بتائے گئے ہیں۔دوسرے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ انسان شرّکو اسی طرح بلاتاہے جس