تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 303
وَّ اَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اوریہ کہ جو لوگ آخر ت پر ایمان نہیں لاتے ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب اَلِيْمًاؒ۰۰۱۱ تیار کیا ہے۔تفسیر۔اس آیت میں اس مضمون کی طرف جوپہلی آیت میں اشارہ بیان ہواتھا واضح کیاگیا ہے اورفرماتا ہے کہ جوقوم بھی اپنے انجام سے غافل ہوجائے آخر عذاب میں مبتلاہوجاتی ہے۔آخرت کے معنی آخرت کے معنے بعد میں آنے والی چیز کے ہوتے ہیںقرآن کریم میں چونکہ یوم آخرت کا بار بار ذکر ہے لوگوں کے ذہن پر یہ امر مسلط ہوگیاہے کہ آخر ت کے معنے صرف یوم آخر ۃ کے ہیں۔حالانکہ یہ درست نہیں۔آخرت کے اصل معنے بعد میں آنے والی شئے کے ہیں۔پس جس موقعہ پراس لفظ کااستعمال ہواسی کے مطابق اس کے معنے کئے جانے چاہئیں۔اس جگہ موقعہ کے لحاظ سے قوموں کے انجام کے معنے نہایت مناسب ہیں اور معنے یہ ہیں کہ جوقومیں اس امر کوبھلادیتی ہیں کہ ہرکمالے رازوالے۔اوراپنے انجام کی اصلاح سے غافل ہوجاتی ہیں۔وہ اپنی ذمہ واریوں کی ادائیگی میں بھی سست ہوجاتی ہیں اوراللہ تعالیٰ کے عذاب کی مستحق ہوجاتی ہیں پس ہرقوم کو اپنے انجام کو زیرنظررکھناچاہیے اورہرخرابی کے موقعہ پر اپنی قو م کی اصلاح کرلینی چاہیے تاکہ اسے نئی زندگی ملتی رہے اورخدا تعالیٰ کے عذاب سے وہ بچ جائے۔اس آیت سے پہلے جو واؤ عاطفہ ہے وہ انہی معنوں پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس سے معلو م ہوتاہے کہ یہ حکم مسلمانوں کو ہے اورمسلمان یو مِ آخر پرایما ن رکھتے تھے اس کے منکرنہ تھے۔