تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 289
اس نئے عہد کو قبول کرکے اس عذاب کودور کریں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہواہے اوراگر ارض مقدس بحیثیت یہود ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے توبحیثیت مسلمان وہ اس میں پھر سے داخل ہوجائیں اس کے سوا ان کے لئے اورکوئی ترقی کی راہ کھلی نہیں ہے۔ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ (اوریہ بھی کہا تھا کہ اے )ان لوگوںکی نسل جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر )سوار کیا تھا و ہ عَبْدًا شَكُوْرًا۰۰۴ یقیناً(ہمارا)نہایت شکر گذا ربندہ تھا۔حلّ لُغَات۔ذُرِّیّۃ۔ذُرِّیَّۃٌکے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۸۴۔الذُّرِیَّۃُ: اَلصِّغَارُ مِنَ الْاَوْلَادِ وَاِنْ کَانَ قَدْ یَقَعُ عَلَی الصِّغَارِ وَالْکِبَارِ مَعًا فِی التَّعَارُفِ۔یعنی ذریۃ کے معنی چھوٹی عمر کے بچوں کے ہوتے ہیں۔لیکن کبھی عرف عام میں چھوٹے اور بڑے سب بچوں کے لئے مشترک طور پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔وَیُسْتَعْمَلُ لِلوَاحِدِ والْجَمْعِ وَاَصْلُہُ الْـجَمْعُ۔اور یہ لفظ ایک بچہ کے لئے بھی اور زیادہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔گو اصل میں جمع کے لئے ہی یہ لفظ بنا ہے۔(مفردات) شکور: شَکُوْرٌ شَکَرَ سے مبالغہ کاصیغہ ہے۔اورشکر کے معنی کے لئے دیکھو ابراہیم آیت نمبر ۶۔شَکُوْرٌ شَکَرَ سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور شَکَرَ کبھی بغیر صلہ اور کبھی’’ ل‘‘ کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔یعنی شَکَرَہٗ وشَکَرَلَہٗ اور اگر شَکَرَ کا’’ ل‘‘ صلہ آئے تو یہ زیادہ فصیح سمجھا جاتا ہے اور شَکَرَہٗ وَشَکَرَلَہٗ کے معنے یہ ہوتے ہیں اَثْنٰی عَلَیْہِ بِمَا اَوْلَاہُ مِنَ الْمَعْرُوْفِ۔کہ کسی کے احسان کے باعث اس کی تعریف کی۔گویا اقرارِ احسان اظہارِ قدر کے ساتھ شکر کہلاتا ہے اور کثرت کے ساتھ اقرارِ احسان کرنے والے کو شکور کہتے ہیں۔تفسیر۔یعنی اس کتاب کے نزول کے بعد ہم نے ان سے کہا کہ اے نو ح کے ساتھیو ں کی ذرّیت تمہارادادانو ح توبڑاشکر گذار بند ہ تھا یعنی تم بھی اپنے با پ کے سپو ت بننااورشکر گذار بننے کی کوشش کرنا۔بعض نے اس قو ل کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پر محمول کیا ہے(فتح البیان زیر آیت ھذا)۔مگر میرے نزدیک یہ موسیٰ کی قوم ہی کے متعلق ہے۔کیونکہ اس آیت کے بعد بھی پھر موسیٰ کی قوم کا ذکر شرو ع ہو جاتا ہے۔ان