تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 288

اور واضح کیا۔ھَدٰی فُلَانًا: تَقَدَّمَہٗ اس کے آگے آگے چل کر منزل مقصود تک لے گیا۔ھَدَاہٗ اللہُ اِلَی الْاِیْمَانِ: اَرْشَدَہٗ إِلَیْہِ۔ایمان کی طرف رہنمائی کی۔(اقرب) بنی اسرائِیْل اِسْرَائِیْلُ حضر ت یعقوب کالقب ہے (پیدائش باب۳۲۔آیت ۲۸) اور بنواسرائیل حضرت یعقوب کی اولاد کو کہتے ہیں۔دُوْن دُوْنَ کے معنی ہیں۔سِوَا۔مزید تشریح کے لئے دیکھو نحل آیت نمبر ۸۷۔وَکِیْلًا وَکِیْلًا کے معنی کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۱۰۹۔اَلْوَکِیْلُ۔المَوْکُوْلُ اِلَیْہِ جس کے سپرد کوئی بات کر دی جائے۔وَقَدْ یَکُوْنُ لِلْجَمْعِ وَالْاُنْثٰی۔یہ لفظ واحد و جمع ہر دو کے لئے اور اسی طرح مذکر و مؤنث ہر دو کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔وَیَکُوْنُ بِمَعْنٰی فَاعِلٍ اِذَا کَانَ بِمَعْنَی الْحَافِظِ اور جب اس کے معنی حافظ یعنی نگہبان کے ہوں توا س وقت اسم مفعول کے معنی میں نہیں بلکہ اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے۔وُصِفَ بِہِ اللہُ تَعَالٰی اور انہی معنوں میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔وَقِیْلَ الْکَافِی الرَّازِقُ اور بعض کہتے ہیں کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے والے اور رازق کے ہوتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اٰتَيْنَا سے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا ذکر اس آیت سے حضرت موسیٰ اوران کی قوم کا ذکرشروع کیا ہے ان آیات کاگذشتہ آیت اورپہلی سورۃ سے کئی طرح تعلق ہے (۱)پہلی آیت میں رسول کریم صلعم اورآپؐ کے اتباع کو بیت المقدس دینے کاوعدہ کیاگیاتھا۔یہ شہر اوراس کے گرد کاملک پہلے الٰہی وعدہ کے مطابق حضرت موسیٰ اوران کی قوم کو ملا تھا۔مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پرواہ نہ کرکے اسے کھودیا۔پس ان کے واقعہ کو یاد کراکے مسلمانوں کوتوجہ دلائی گئی ہے کہ موسوی قوم کی اچھی میرا ث تم کودی جارہی ہے مگرہوشیار رہنا۔ایسانہ ہو۔بُری میراث بھی لے لواورتباہ ہوجائو۔یہود کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ اسلام سے وابستگی ہے (۲)سورئہ نحل کے آخر میں یہود سے تعلق پیدا ہونے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔اورہدایت کی تھی کہ ان سے عمدہ رنگ میں بحث کرنا۔یعنی وہ ایک اہل کتاب قوم ہے ان سے مسلمّہ اصول کے مطابق اوران دلائل کے مطابق جوان کی کتب میں مذکور ہیں بحث کرنا۔اب اس طریق بحث کی مثال پیش کرتا ہے یعنی ان کی کتاب سے ہی وہ پیشگوئیا ں پیش کرتاہے جن سے ان کے بگڑ جانے کی خبر اورعذاب الٰہی میں مبتلاہونے کی خبر ملتی ہے۔اوربتاتاہے کہ ان حالات میں یہود کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ