تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 249
۔بعض دفعہ انسان تائیدی دلائل کو مستقل دلائل کی صورت میں پیش کردیتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دشمن انہی کو پکڑ کر بیٹھ جاتاہے۔فرمایا۔پہلے ہردلیل کو اچھی طرح سے جانچ لو۔جو پختہ اورمضبوط ہو اسی کو پیش کرو۔عدل کے لفظ سے ایک نصیحت عد ل کے معنی کے روسے یہ ہدایت فرمائی کہ کسی پر ایسااعتراض نہ کروجو تم پر بھی پڑتاہو۔کیونکہ اول تویہ انصاف سے بعید ہے۔دوسرے دشمن موقعہ پا کر بحث میں اس بات کو پیش کردیتاہے اورپھر شرمندگی اٹھا نی پڑتی ہے۔آریہ اور عیسائی صاحبان کا اسلام کے خلاف بے انصافی سے اعتراض کرنا آج کل آریہ اورعیسائی اسلام کے خلاف اسی بے انصافی سے کام لے رہے ہیں۔یعنی وہ ایسے اعتراض اسلام پر کرتے ہیں جوان کے مذہب پر زیاد ہ پڑتے ہیں۔حالانکہ وہ باتیں جن پر وہ اعتراض کرتے ہیں۔اگر عیب ہیں تو پھر وہ اپنے مذہب کوکیوں مانتے ہیں۔اسلام ایسے اعتراضوں سے منع کرتاہے۔مگرافسوس کہ اس زمانہ کے مسلمان اس نصیحت سے بالکل غافل ہیں۔اوراحمدیہ جماعت کے بانی کے خلاف ایسے امو رکواعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ جو سب انبیاء میں پائے جاتے ہیں۔اگروہ امورقابل اعتراض ہیں توان کی وجہ سے سب ہی نبیوں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔حکمت کے معنی حلم کے (۴)حکمت کے معنے حلم کے بھی ہوتے ہیں۔فرمایا کہ نرمی کے ساتھ اور عقل سے کام لیتے ہوئے بات کیاکرو۔کیونکہ جوشخص ایسا نہیں کرتا بلکہ جلد تیز ہوکر غصے اورجو ش میں آجاتاہے وہ دوسرے کو ہرگز سمجھا نہیںسکتا۔(۵)نبوت کے معنوں کی رُو سے یہ مطلب ہوگا کہ الٰہی کلام کی مدد سے لوگوں کو دین کی طرف بلائو۔جودلائل خود قرآن کریم نے دئے ہیں انہی کو پیش کرو۔اپنے پاس سے ڈھکونسلے نہ پیش کیاکرو۔آہ!اگر اس گُر کو مسلمان سمجھتے تویہودیت اورعیسائیت کو کھا جاتے۔ہماراہتھیار قرآن کریم ہی ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ (الفرقان: ۵۳)اس قرآن کی تلوار لے کر دنیاسے جہاد کے لئے نکل کھڑاہو۔پرافسو س کہ آج دنیا کی ہرچیز مسلما ن کے ہاتھ میں ہے لیکن اگر نہیں تویہی تلوار ،جس کو لے کر نکل کھڑے ہونے کا حکم تھا۔(۶)مَایَمْنَعُ مِنَ الْجَھْلِ کی رُو سے آیت کایہ مطلب بنے گا کہ تم ایسے طریق سے کلام کیاکرو۔جس کو دوسراسمجھ سکے۔اوراس سے اس کی غلط فہمی دورہوسکے۔یعنی وہ بات ہونی چاہیے جوجہالت کاقلع قمع کرے۔اورمخاطب کے فہم کے مطابق ہو۔چنانچہ حدیث میں بھی آتاہے۔’’ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَنْ نُکَلِّمَ النَّاسَ عَلیٰ قَدْرِ عُقُوْلِھِمْ‘‘(فردوس الاخبار للدیلمی فصل امر امرنا)کہ ہم کو