تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 248

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (اوراے رسول)تو(لوگوں کو)حکمت اوراچھی نصیحت کے ذریعہ سے اپنے رب کی راہ کی طرف بلا اوراس طریق وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ سے جوسب سے اچھا ہو۔ان سے (ان کے اختلافات کے متعلق )بحث کرتیرارب ان کو (بھی)جواس کی راہ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ۰۰۱۲۶ سے بھٹک گئے ہوں۔(سب سے )بہترجانتا ہے۔اوروہ ہدایت پانے والوں کو(بھی سب سے )بہترجانتا ہے۔حلّ لُغَات۔الْحِکِمْۃ:اَلْحِکْمَۃُ کے معنے ہیں۔اَلْعَدْلُ۔عدل۔اَلْعِلْمُ۔علم۔اَلْحِلْمُ۔بردباری۔اَلنُّبُوَّۃُ۔نبوت۔قِیْلَ مَایَمْنَعُ مِنَ الْجَھْلِ۔جوجہالت سے روکے۔وَقِیْلَ کُلُّ کَلَامٍ مُوَافِقُ الْحَقِّ۔ہروہ بات جو حق کے موافق ہو۔وَقِیْلَ وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ مَوْضِعِہِ وَصَوَابُ الْاَمْرِ وَسَدَادُہُ اوربعض نے کہا ہے کہ کسی چیز کو برمحل رکھنا اور کسی معاملہ کادرست اورصحیح ہوناحکمت کہلاتاہے۔(اقرب) تفسیر۔چونکہ دین کی اشاعت ا ب وسیع ہونے والی تھی۔اوریہود اورنصاریٰ میں جن کے پاس الٰہی کتابیں تھیں اسلام کی منادی ہونے والی تھی۔اس لئے فرمایا کہ ان کے مقابلہ میں زیادہ مضبوطی کی ضرورت ہے۔مشرکوں کے مقابلہ میں یہ آسانی تھی کہ شرک کاردّکردینے سے ہی سب جھگڑے کافیصلہ ہوجاتا تھا۔مگریہود نصاریٰ کے مقابلہ میں شریعت کی تفصیلی بحثوں میں بھی پڑنالازمی تھا۔اس لئے پہلے سے یہ تاکید کردی کہ دعوۃ بالحکمۃ ہو۔حکمت کے مختلف معنوں کے لحاظ سے آیت کے معنی حکمت کے معنی کئی ہیں۔مثلاً علم ،پختگی ، عدل، نبوت،حلم اوربردباری۔جوچیز جہالت سے روکے۔جوکلام حق کے موافق ہو۔محل وموقع کے مناسب حال بات۔یہ سب معنے یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔فرمایاحکمت کے ساتھ بلائو۔یعنی علمی باتوںکوبیان کرو۔یعنی پہلے نبیوں کے صحیفوں پر مسائل کی بنیاد رکھ کربات کرو۔افسوس کہ مسلمان مفسروں نے اس حکم کی طرف توجہ نہیں کی۔اورلوگوںسے سن سنا کر بائیبل کے متعلق ایسے حوالے اپنی کتب میں لکھ دیئے ہیں کہ یہود اورعیسائیوں کو آج تک ان کی وجہ سے اسلام پرحملہ کرنے کاموقعہ ملتا ہے۔دوسرے یہ فرمایا کہ پختہ باتیں بیان کرو کوئی بات بھی کچی نہ ہو