تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 247

نے اس میں اختلاف کیاتھا(کشاف زیر آیت ھذا)۔سبت ایک جدید مفسر نے اس جگہ سبت کے معنے قطع کے بھی کئے ہیں(بیان القرآن از چوہدری محمد علی صاحب زیر آیت ھذا)۔مگرا یسے موقعوں پر ان معنوں میں عر ب لوگ ہرگز ا س لفظ کو استعمال نہیں کرتے۔سبت کے معنی وبال کے میرے نزدیک سبت کے وبال کے معنے ہی ٹھیک ہیں۔قرآن مجید میں بھی اورعربی زبان میں بھی اس بات کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ مضاف حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام بنادیتے ہیں۔پس ’’جُعِلَ السَّبْتُ‘‘کے یہ معنے ہیں کہ سبت کااثر صرف ان لوگوں پر ہواتھا۔(اور وہ یقیناًبرااثر تھا ) جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔سورۃ بقرہ میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ سبت کی حرمت کو توڑنے کی وجہ سے یہود کو سزاملی تھی۔سبت کے ذکر کا پہلی آیات سے تعلق اب یہ سوال بے شک پیدا ہوتا ہے کہ سبت کے ذکر کا پہلی آیات سے کیا ربط ہوا،تواس کا جواب یہ ہے کہ یہود میں نزول قرآن سے پہلے بھی یہ خیال تھا ،اورآج تک ہے کہ ہماری ساری تباہی اوربربادی صرف سبت کے توڑنے کی وجہ سے ہے۔اوریہ کہ انہیں ہرگز ترقی نہ ملے گی جب تک وہ پھر سبت کی عزت کوقائم نہ کریں گے۔آج بیسویں صدی میں بھی جبکہ مسلما ن جمعہ کی حرمت کو توڑ رہے ہیں۔اورعیسائی اتوارکوچھوڑ رہے ہیں۔یہودیوں میں ایسی سوسائٹیاں بن رہی ہیں جوسبت کی حرمت کو قائم کرنے کی تبلیغ کررہی ہیں فلسطین میں انہوںنے کئی گائوں میں اس کو جبراً قائم کرنا چاہا۔جس کی وجہ سے وہاںکئی فسادات بھی ہوچکے ہیں۔پس جب یہود کو کہا گیا کہ اب تمہاری ترقی اسلام سے وابستہ ہے (دیکھو پچھلی آیات )توان کے دلوں میں یہ سوال پیداہوسکتاتھا کہ جس چیز یعنی سبت کے قائم کرنے پر ہماری عزت کاانحصار ہے۔مسلمانوںکےساتھ ملنے سے توہم اس سے اوربھی دور جاپڑتے ہیں۔کیونکہ مسلمانوں میں جمعہ کی عزت کی جاتی ہے ،اورہمار ے لئے ہفتہ کے دن کی عزت کرناواجب ہے۔اوراس سوال کا جواب دیناضروری تھا چنانچہ اس آیت میں اس سوال کا جواب دیا ہے اوربتایاہے کہ تباہی خداکے کلام کی نافرمانی سے آتی ہے۔سبت کے توڑنے پر تباہی بھی اسی وجہ سے آئی تھی۔کہ خدا نے اس کی عز ت کاحکم دیا تھا اوراب جبکہ خدا کا یہ حکم ہے۔کہ اسلام کے ذریعہ جو نیاعہد قائم کیاگیاہے۔اس میں داخل ہوجائو تواب تباہی اس حکم کی خلاف ورزی سے آئے گی۔اس لئے اب تم سبت کی حرمت کو قائم کر کے بھی عزت حاصل نہیں کرسکتے۔اب عزت صرف اسلام میں داخل ہونے اور اس کی اتباع کرنے ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔