تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 246

کی ہرشخص کو ضرورت ہے اورآد م سے لے کر آخری انسان تک کوئی ان صفات سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ابراہیم ؑ سے پہلے بھی جو لو گ خدارسیدہ تھے انہی صفات کے حامل تھے اورابراہیم بھی۔ابراہیمؑ کانام خصوصاً اس لئے لیا گیاہے کہ مکہ کے لوگ ان کو اپنا باپ کہتے تھے (محاضرات تاریخ الامم الاسلامیۃ جلد ۱ صفحہ ۵۶)اوربا پ کی مثال دے کر غیرت دلانا اصلاح کا بہترین طریق ہے۔سرولیم میور اس آیت پر لکھتاہے کہ محمدؐ صاحب پر اس جہالت کے زمانہ میں یہ علم منکشف ہوگیاتھا کہ خدا تعالیٰ کی رسالت اورنبوت تمام قوموں میں مسلسل طورپرجاری ہے (لائف آف محمد زیر عنوان گرینڈ کیتھولک فیتھ)۔(اللہ تعالیٰ بعض دفعہ دشمن کے منہ سے بھی حق کہلوادیتا ہے ) اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ١ؕ وَ اِنَّ سبت(کاوبال)انہی لوگوں پرڈالاگیاتھا جنہوںنے اس میں اختلاف کیا تھا۔اورتیرارب اس امر کے متعلق جس رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۰۰۱۲۵ میں وہ اختلاف کرتے تھے یقیناًقیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔حلّ لُغَات۔اَلسَّبْتُ یہسَبَتَ(یَسْبِتُ) کامصدر ہے اورسَبَتَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں اِسْتَرَاحَ۔اس نے آرام کیا۔نیزاس کے معنے ہیں ہفتہ کاروز۔(اقرب) تفسیر۔سبت کے ذکر پر مفسرین کی حیرانگی اس جگہ مفسرین بہت حیران ہوئے ہیں کہ سورۃ النحل مکی ہے اس میں سبت کے ذکر کاکیاتعلق تھا۔انگریز مفسرین نے ایک اورشگوفہ چھوڑاہے۔وہ یہ کہتے ہیں اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہود کا ذکر اس آیت سے پہلے تھا مگر وہ آیت قرآن سے ضائع ہوگئی ہے اوریہ آیت رہ گئی ہے جس کی وجہ سے عبارت کاربط جاتا رہاہے۔سبت کے ذکر کے متعلق مختلف مفسرین کا خیال بعض مفسرین نے کہا ہے کہ چونکہ مسلمانوں کو بھی نیکیوں کاحکم دیاگیاتھا۔اس لئے ایک نیکی کے حکم اوراس کی خلاف ورزی کے انجام کا ذکر کرکے مسلمانوں کوڈرایا ہے تاوہ احتیاط رکھیں۔بعض نے سبت کے لفظ سے سبت کے توڑنے کا عذاب مراد لیا ہے۔یعنی وہ عذاب ان کے لئے تھاجنہوں