تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 245

ثُمَّ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا١ؕ وَ مَا اور(اے رسول)ہم نے تجھے وحی کے ذریعہ سے حکم دیا ہے کہ (ہماری )کامل فرمانبرداری پر ہمیشہ قائم رہنے والے كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۰۰۱۲۴ ابراہیم کے طریق کی پیروی کر اور(اے مکہ والو جانتے ہو کہ )وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا۔حلّ لُغَات۔مِلَّۃٌ مِلَّۃٌ کے معنوں کے لئے دیکھو ابراہیم آیت نمبر ۱۴۔اَلْمِلَّۃُ: اَلشَّرِیْعَۃُ اَوِالدِّیْنُ۔شریعت اور دین کو ملت کہتے ہیں۔وَقِیْلَ الْمِلَّۃُ وَالطَّرِیْقَۃُ سَوَاءٌ۔بعض کہتے ہیں کہ ملت اور طریقہ ہم معنے لفظ ہیں۔وَھِی اِسْمٌ مِنْ اَمْلَیْتُ الْکِتٰبَ ثُمَّ نُقِلَتْ اِلٰی اُصُوْلِ الشَّرَائِعِ بِاِعْتَبَارِ اَنَّہَا یُمْلِیْہَا النَّبِیُّ اور ملت اسم ہے جو اَمْلَیْتُ الْکِتَابَ کے محاورہ سے ماخوذ ہے پھر وہ شریعت کے اصول کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔کیونکہ شریعت کے اصول نبی لکھاتا ہے۔وَقَدْ تُطْلَقُ عَلَی الْبَاطِلِ کَالْکُفْرِ مِلّۃٌ وَاحِدَۃٌ اور کبھی یہ لفظ جھوٹے مذہبوں پر بھی بولا جاتا ہے۔جیسے اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَّاحِدَۃٌ کے محاورہ سے ظاہر ہے۔وَلَاتُضَافُ اِلَی اللہِ وَلَا اِلٰی آحَادِ الْاُمَّۃِ۔اور یہ اللہ کی طرف منسوب نہیں ہوتا۔اور نہ امت کے کسی فرد کی طرف۔یعنی دِیْنُ اللہِ تو کہہ سکتے ہیں مگر مِلَّۃُ اللہِ نہیں کہہ سکتے۔اسی طرح قوم کی ملت کہیں گے زید یا بکر کی ملت کا لفظ نہیں بولیں گے۔(اقرب) تفسیر۔ترقیات کے موقعہ پر توکل اور ایمان رکھنے کی نصیحت اس آیت میں گویااس مضمون کو جومیں اوپر بیان کرآیاہوں خوداللہ تعالیٰ نے کھول کربیان فرما دیاہے اورمسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ تم ابراہیم کے طریق پر چلنا۔اورپھر مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ کودہراکر اس طر ف اشار ہ کیا ہے کہ تم بھی ترقیات کے موقعہ پر خدا تعالیٰ کاتوکل اورا س پر ایمان نہ چھوڑنا۔اس آیت سے بعض مسیحی یہ غلط استدلال کرتے ہیں کہ ا س آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابراہیمی دین ہی کے تابع تھے۔حالانکہ اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں۔بلکہ اس کامطلب صرف یہ ہے کہ جیسے اس نے کمال پیدا کیا اورشکر گزاری دکھا ئی ویسے ہی تم بھی کرو۔یعنی تفصیلات میں اطاعت مراد نہیں بلکہ ان امور میں نقش قد م پر چلنے کی ہدایت دی گئی ہے جن کا اوپر کی آیت میں ذکر ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ان امورپر چلنے