تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 241

ملوث ہوکر رہتے ہیں۔پس انسان کو معرفت اورخشیت الٰہی میں ترقی کرنے کی ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے۔جہالت کی دو اقسام یہ بھی یاد رکھنا چاہیےکہ جہالت دو قسم کی ہوتی ہے ایک دائمی جس کاشکار عرفان سے بالکل محروم ہوتاہے اورگناہ میں ہی اُسےسب لذت ملتی ہے۔دوسری وقتی۔اس کا شکار ادنیٰ عارف بھی ہوجاتا ہے کیونکہ بعض وقت اس کے عرفا ن کادرجہ کم ہوتاہے تواس وقت و ہ نفسانی جذبات کا شکار ہو جاتا ہے چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے لَایَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَھُوَ مُوْمِنٌ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْاِیْمَانُ فَیَصِیْرُ عَلَی رَأْسِہِ کَالظُّلَّۃِ الخ یعنی جب زانی زناکررہاہوتاہے تواس وقت اس کے قلب کی حالت مومنانہ نہیں ہوتی اوراس کا ایمان اس کے دل سے نکل کر اس کے سرپرچھاتے کی طرح منڈلاتارہتاہے۔(ترمذی ابواب الایمان باب لا یزنی الزانی)آخری فقرہ کے معنے بعض شراحِ احادیث نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایمان اس وقت اس شخص کی سفار ش کررہاہوتا ہے۔اَصْلَحُوْا کے دو معانی وَاَصْلَحُوْا۔اپنی اصلاح کرلیں یادوسروں کی اصلاح کریں دونوںہی معنے ہوسکتے ہیں۔اس میں یہ بتایاگیا ہے کہ گناہ کے بعدانسان کوصرف قلبی توبہ ہی نہیں کرنی چاہیے بلکہ جن وجوہ سے و ہ گناہ سرزد ہواتھا ان کو بھی دور کرنا چاہیے۔تاکہ آئندہ گناہ سرزد نہ ہوسکے۔اور’’دوسروں کی اصلاح کریں ‘‘سے اس طرف اشارہ ہے کہ اپنے گناہ کے کفارہ کے طور پر انہیں دوسرے لوگوں کی اصلاح کرنی چاہیے۔تاکہ ان کے ثواب میں جن کو وہ ہدایت کی طرف لائے ہوں شامل ہوجائیں۔اورسابق گنا ہ کی وجہ سے جو اعمال میں کمی ہوجائے پوری ہوجائے۔اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا١ؕ وَ لَمْ يَكُ ابراہیم یقیناہر(اک )خیرکاجامع۔اللہ (تعالیٰ)کے لئے تذلل اختیارکرنے والا (اور)ہمیشہ خدا کی کامل مِنَ الْمُشْرِكِيْنَۙ۰۰۱۲۱ فرمانبرداری کرنے والاتھا۔اوروہ مشرکوں میں سے نہیں تھا۔حلّ لُغَات۔اَ لْاُمَّۃُ اَ لْاُمَّۃُکے معنے ہیں۔اَلْاِمَامُ۔امام اَلرَّجُلُ الَّذِیْ لَانَظِیْرَ لَہُ۔ایساآدمی جس کاکوئی نظیر نہ ہو۔مُعَلِّمُ الْخَیْرِ۔نیکی کی تعلیم دینے والانیز الْجَامِعُ لِلْخَیْرِ۔خیر کاجامع۔(تاج)پس اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ کَانَ اُمَّۃً کے معنی ہوں گے کہ ابراہیم یقیناً ہرایک خیر کاجامع،نیکی کی تعلیم دینے والاامام،اوربے نظیر شخص تھا۔