تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 240

جَھَالَۃ جَھَالَۃٌ جَھِلَ کامصدر ہے اورجَھِلَہٗ کے معنے ہیں ضِدُّ عَلِمَہُ اس سے ناواقف اوربے خبررہا۔نیز اَلْجَہَالَۃُ کے معنی ہیں ضِدُّ العِلْمِ وَالْمَعْرِفَۃِ۔بے علمی اوربے خبر ی۔(اقرب) تفسیر۔اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاتھاکہ یہود نے نافرمانی کی اس لئے ان پر تکالیف آئیں جیسے فرمایا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ کہ وہ ظلم کرتے تھے اس لئے اس کانتیجہ انہیں دکھ ملا۔اب فرمایا ہے کہ گو یہود نے غلطیاں کیں۔لیکن اگروہ اب بھی توبہ کریں تو خدا تعالیٰ کو بخشنے والامہربان پائیںگے۔اس میں یہود کاکوئی خاص لحاظ نہیں بلکہ یہ عام قانون کے مطابق ہے۔ظاہر ہے کہ اولاد کی تکالیف کا ماں باپ پر اثر پڑتا ہے جس طرح بچوں کے بیمار ہونے سے ماں باپ کوتکلیف ہوتی ہے اسی طرح ان کے دوزخ میں پڑنے سے ماں باپ کو تکلیف ہو گی۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتاہے کہ قیامت کے دن بعض ظاہر میں صحابی نظر آنے والے لوگوں کو دوزخ میں جاتے دیکھیں گے توفرمائیں گے اُصَیْحَابِیْ۔اُصَیْحَابِیْ (بخاری کتاب التفسیر باب و کنت علیھم شھیدًا)پس اس تکلیف سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ بزرگوں کی اولادسے نیکی کاسلوک کرتا ہے اوران بزرگوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے ان کی اولاد کی حفاظت کی جاتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ أَلْـحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّـتَھُمْ کہ ہم مومنوں کی اولاد کو اگر وہ مومن ہو ں گے جنت میں ان کے ساتھ ملادیں گے خواہ اولاد کادرجہ کم ہی کیوں نہ ہو۔اس لئے انبیاء و صلحاء کی امتوں اورجماعتوں کے لئے بار بار قرآن کریم میں وعدے ہیں۔کہ ان پر خاص فضل ہوگاتاان کے دکھ پانے سے انبیاء اورصلحاء کو تکلیف نہ ہو۔اورچو نکہ قرآن کریم سے معلو م ہوتاہے کہ سب قومو ں کی طرف انبیاء آئے ہیں اس لئے ساری دنیا ہی اس فضل میں حصہ دار ہے اوریہود کی خصوصیت نہیں۔ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُواالسُّوْٓءَ بِجَھَالَۃٍ۔جہالت علم کے مقابل کالفظ ہے اوراس کے معنے ناواقفیت کے ہیں لغت میں ہے اَلْجَھَالَۃُ ضِدُّ الْعِلْمِ۔اسی طرح لکھا ہے اَلْجَہَالَۃُ ضِدُّ الْعِلْمِ وَالْمَعْرِفَۃِ یعنی جہالت علم کاضد ہے اورجہالت کے معنے عدم علم اورعدم معرفت کے ہیں۔اس جگہ عدم علم کے معنے نہیں کیونکہ جسے علم نہ ہو اسے سزانہیں ملتی بلکہ عدم معرت کے ہیں یعنی علم توحکم کاہو لیکن تقویٰ میں کمزوری کی وجہ سے یہ شخص وقت پر اپنے نفس کو قابو میں نہ رکھ سکے۔ایسا شخص سزاکامستحق ہوتاہے کیونکہ علم کے بعد تقویٰ کے حصول کی کوشش نہ کر ناایک دانستہ گناہ ہے۔درحقیقت معرفت ہی ہے جوانسان کو گنا ہ سے بچاتی ہے۔جولوگ ظاہر ی علم کو کافی سمجھتے ہیں وہ آخر گنا ہ میں