تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 239

پہلے لکھی گئی ہو اس کی نسبت کہتے ہیں کہ ’’میں پہلے لکھ چکاہوں ‘‘۔اس سے مراد کوئی دوسری کتاب نہیں ہوتی بلکہ ان الفاظ سے پہلے کی کوئی عبارت مراد ہوتی ہے۔اسی رنگ میں یہ الفاظ اس آیت میں مستعمل ہوئے ہیں۔بنی اسرائیل کے اپنے نفسوں پر ظلم کرنے کی تشریح یہ جو فرمایا ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوںپر ظلم کیا۔اس سے یہ مراد ہے کہ بعض اورچیز یں بھی یہود کے لئے ممنوع قرار دی گئی تھیںجیسے گائے اوربکری کی چربی۔پس اس کی طرف یہاں اشارہ کیاگیاہے اوربتایا ہے کہ یہ حرمت حقیقی نہ تھی بلکہ ان کے ظلمو ں کی وجہ سے تھی۔چنانچہ سورئہ انعام میں اس مضمون کو وضاحت سے بیان فرمایاگیاہے فرماتا ہے وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَايَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ (الانعام:۱۴۷)یعنی یہود پر گائے اوربکری کی چربی بھی حرام کی گئی تھی سوائے اس چربی کے جو پیٹھ پرہویا انتڑیوں کے ساتھ لگی ہوئی ہو یاہڈی کے اوپر لگی ہوئی ہو۔مگر یہ حرمت ان کی سرکشیوں کی سزاطور پر جاری کی گئی تھی مستقل حرمت نہ تھی۔ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا پھر (یاد رکھو کہ)جن لوگوں نے بے خبری کی حالت میں (کوئی )برائی کی ہو (اور)پھر اس کے بعد(اس سے )توبہ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ کرلیں اور(اپنی غلطی کی)اصلاح (بھی )کریں ان کے حق میں تیرارب ان (شرائط کے پوراکرنے)کے بعد رَّحِيْمٌؒ۰۰۱۲۰ بہت ہی بخشنے والا (اور)باربار رحم کرنے والا (ثابت)ہوگا۔حلّ لُغَات۔اَلسُّوْءُ اَلسُّوْءُکے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر ۵۴۔اَلسُّوْءُ کُلُّ مَا یَغُمُّ الْاِنْسَانَ مِنَ الْاُمُوْرِ الدُّنْیَوِیَّۃِ وَالْاُخْرَوِیَّۃِ وَمِنَ الْاَحْوَالِ النَّفْسِیَّۃِ وَالْبَدَنِیَّۃِ وَالْخَارِجَۃِ مِنْ فَوَاتِ مَالٍ وَجَاہٍ وَفَقْدِ حَمِیْمٍ۔دنیوی و اخروی معاملات اور نفسی و بدنی حالات یا ان کے علاوہ اور خارجی واقعات یعنی مال و عزت کے کھوئے جانے یا دوست و احباب کی علیحدگی کی وجہ سے جو امور انسان کو اندوہگین بنائیں ان سب کو سوء کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔(مفردات)