تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 238

مصنف فتح الباری نے اس کاایک عجیب جواب دیا ہے جومیرے نزدیک قابل قدر ہے۔اورمیں سمجھتا ہوں کہ اگر اس مشکل کاکوئی اَورحل موجود نہ ہوتا تویقیناًیہی جواب صحیح ہوتا۔وہ لکھتے ہیں کہ اس کااشارہ سور ۃ مائدہ کی طرف ہے اورگومائدہ نزول کے لحاظ سے انعام سے بعد کی ہے۔لیکن چونکہ علم الٰہی میں سورۃ مائدہ کوآخری ترتیب میں پہلے رکھناتھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے نازل ہونے والی سورۃ میں اس بعد میںرکھی جانے والی سورۃ کی طرف اشارہ کردیااوراس طرح ایک ثبوت مہیا کردیا کہ قرآن کریم کی ترتیب الہا می ہے۔ان کا یہ جوا ب نہایت لطیف ہے اوربعض دوسرے مقامات کے حل کرنے کے وقت مدنظر رکھنے کے قابل ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ترتیب قرآن میں پہلے نازل ہونے والی سورتو ںمیں بعد میں نازل ہونے والی سورتوں کے مضامین کو واضح کیا گیا ہے۔جیسا کہ سورئہ نحل کے بعض مسائل کو سورۃ اسراء میں حل کیاگیا ہے حالانکہ سورۃ اسراء پہلے کی ہے اورسورۃ نحل بعد کی ہے اوریہ قرآن کے علمی کمالات میں سے معجزانہ کمال ہے۔باوجود اس جواب کو لطیف سمجھنے کے میرے نزدیک اس موقعہ پر اس جواب کی ضرورت نہیں کیونکہ ا س کا جواب ترتیب نزول کو مدنظررکھتے ہو ئے بھی موجود ہے۔قرآن کریم سے یہ توثابت ہے کہ سورۃ نحل سورۃ انعام سے پہلے نازل ہوئی ہے کیونکہ سورۃ انعام میں دوجگہ اس کے مضمو ن کی طرف اشار ہ کیا گیا ہے۔ایک انعام کے چودہویں رکوع میں جس میں فرمایا ہے قَدْفَصَّلَ لَکُمْ مَّاحَرَّمَ عَلَیْکُمْ اِلَّا مَّااضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِ(الانعام :۱۲۰) اور دوسرے آیت قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ (الانعام :۱۴۶)اورتاریخ سے بھی یہ امر ثابت ہے کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ اسراء کے واقعہ کے بعد جو ہجر ت سے صرف چھ ماہ یاایک سال پہلے ہواتھا(الطبقات الکبری لابن سعد ذکر معراج )۔حرام حلال کے احکام نازل ہوئے ہیں اوریہ بھی احادیث سے ثابت ہے کہ سورۃ انعام ایک ہی دفعہ سب کی سب نازل ہوئی تھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے نازل نہیں ہوئی(الاتقان)۔پس معلوم ہواکہ سورۃ نحل کے بعد ہی یہ سورۃ نازل ہوئی ہے اوراسی کی آیت کی طرف اس میں اشارہ ہے۔اب ر ہ گیا یہ سوال کہ آیت زیر بحث میں جو مِنْ قَبْلُ کے الفاظ ہیں ان سے کیا مراد ہے ؟تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ امر بالکل سادہ ہے۔مگر نامعلوم مفسرین کاذہن ادھر کیوں نہیں گیا۔بات یہ ہے کہمِنْ قَبْلُ سے مراد کوئی پہلی نازل شدہ سورۃ نہیں بلکہ اسی سورۃ کی پہلی نازل شدہ آیت ہے چنانچہ اس آیت سے دوآیتیں پہلے اِنَّمَاحَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ (النحل:۱۱۶)والی آیت موجود ہے اسی کی طرفمِنْ قَبْلُ کا اشارہ ہے مِنْ قَبْلُ میں سال یادوسا ل کی شرط نہیں۔ہم عام طور پر تصنیف میں جو با ت