تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 237

تھی۔اگرتم بھی کروگے توتمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔اس آیت میں مِنْ قَبْلُ کے لفظ سے مراد مِنْ قَبْلُ کے متعلق مفسرین میں بہت اختلاف ہواہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔بعضوں نے مِنْ قَبْلُسے مراد سورۃ انعام لی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے سورۃ انعام میں ان محرمات کا ذکر آچکا ہے۔اسی کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے (مجمع البیان زیر آیت ھذا)۔لیکن یہ غلط ہے۔وہاں بھی یہ الفاظ ہیں قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗۤ(الانعام :۱۴۶)یعنی کفارسے کہہ دے کہ میں تواپنے اوپر نازل ہونے والی وحی میں سوائے فلاں فلاں چیز کے اَورکوئی چیز حرام نہیں پاتا۔ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ سورۃ انعام سے بھی پہلے یہ حکم نازل ہوچکاتھا۔چار حرام چیزوں کا ذکر چار سورتوں میں اب مشکل یہ پیش آتی ہے کہ ان چار حرام چیزوںکا ذکرصرف چارسورتوں میں ہے۔بقرہ میں جو مدینہ میں نازل ہوئی۔مائدہ میں جو نہ صر ف مدینہ میں نازل ہوئی بلکہ اس کے آخری ایام میں نازل ہوئی (تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت ھذا)۔نحل میں کہ جہاں کہا ہے کہ یہ حکممِنْ قَبْلُ نازل ہوچکا ہے۔اورانعام میں کہ وہاں بھی یہی اشارہ کیاگیا ہے کہ اس سے پہلے یہ حکم نازل ہوچکا ہے۔پس آپس میں ایک دوسری کی طرف اشارہ سمجھانہیں جاسکتا۔کیونکہ دونوں سورتیں ایک دوسرے سے پہلے نہیں ہوسکتیں۔اوران دونوں کے علاوہ کسی اورمکی سور ۃ میں یہ ذکر ہے نہیں۔مفسرین نے یاتو اس عقدہ کو حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی یا اکثر ایسے جواب دیئے ہیں جومعقول نہیں۔مثلاً بعض نے سورۃ مائدہ کی طر ف اشارہ قرار دیا ہے جودرست نہیں۔کیونکہ سورۃ مائدہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے(تفسیر کبیر لامام رازی سورۃ الانعام :۱۲۰)۔رازی نے یہ جواب دیا ہے کہ سورۃ انعام ہی سب سے پہلی سورۃ ہے جس میں یہ ذکر ہے۔اوراس کی آیت قَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّاحُرِّمَ عَلَیْکُمْ میں اس کے بعد آنےوالی آیت قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا کی طرف اشارہ ہے (تفسیر کبیر لامام رازی سورۃ الانعام آیت۱۴۶)۔اوراتنے تھوڑے فاصلہ کی بناء پر اگلی آیات کی طرف اشارہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اما م رازی کایہ جوا ب ہرگز درست نہیں ہوسکتا۔کیونکہ قَدْ فَصَّلَ لَکُمْ سے بعد کی آیت کی طرف تواشارہ ہویا نہ ہو۔مگر جس آیت کی طرف و ہ اشارہ کرتے ہیں وہ بھی تویہی کہتی ہے کہ قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ جس کے معنے یہ ہیں کہ اس آیت سے بھی پہلے کوئی اورآیت موجود ہے جس میں یہ مسئلہ بیان ہواہے۔پس یہ جواب بھی مشکل کوحل نہیں کرتا۔