تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 233
تمباکو ہے۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ سے اس کے بارہ میں پوچھا گیاتوآپ نے فرمایایہ چیز بعد میں نکلی ہے مگر اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں۔کہ اگررسول کریم صلعم کے زمانہ میں اس کارواج ہوتاتوحضورؐاس سے ضرورمنع فرماتے۔(الحکم ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۷) اسلام کے نزدیک کھانے کی چیزوں کے کئی درجے اصل بات یہ ہے کہ کھانے کی چیزوں کے متعلق اسلام نے کئی درجے بتائے ہیں۔حرام۔ممنوع۔حلال۔طیب۔حرام وہ جسے قرآن نے حرام کیا۔ممنوع جسے قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق رسول کریم صلعم نے منع فرمایا یابعد کی معلوم شدہ چیز جس کے متعلق تحقیقات کرکے مسلمان اسے ناپسندیدہ قراردے دیں۔حلال اور طیب کے معنی حلال۔وہ جو اپنی اصل وضع کے لحاظ سے طیب ہو۔طیب۔وہ جو اپنی موجودہ حالت میں بھی طیب ہو۔یعنی ہروہ چیز جس کو کسی صورت میں بھی کھاناجائز ہے اس کو حلال کہیں گے۔جیسے بکراحلال ہے۔مگرچونکہ کچے گوشت کی صورت میں کھایا نہیںجاسکتا ہے اس لئے اس صورت میں طیب نہیںہوگا۔لیکن اس کو پکاکے کھا نا طیب ہوگا۔بہترین غذا طیب سے اتر کرحلال ہے۔اس کے بعد اوراشیا ء ہیں وہ ممنوع ہیں۔ان کاکھا نادرست نہیں۔مثلاً ڈاکٹر ہیضہ کے دنوں میں کھیرے کاکھانامنع کردے توگوکھیراعام دنوں میں حلال اورطیب ہے مگر ان دنوں میں حلال تورہے گاطیب نہ رہے گا۔جوچیزیں حرام کے بعد ہیں یعنی ممنوع ہیں ان کے متعلق بھی ہم کہیں گے کہ ان کاکھا نا درست نہیں۔یعنی ان کے کھانے سے انسان نقصان اٹھائے گا۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف جانور مختلف کاموں کے لئے پیداکئے ہیں۔کوئی خوبصورتی کے لئے کہ دیکھنے میں خوبصور ت معلو م ہوتاہے۔کوئی آواز کے لئے کہ اس کی آواز بہت عمدہ ہے۔کوئی کھا نے کے لئے کہ اس کاگوشت اچھا ہے۔کوئی دوائی کے لئے کہ اس کے گوشت میں کسی مرض سے صحت دینے کی طاقت ہے۔صرف جانوراورحلال دیکھ کراسے نہیں کھاناچاہیے۔ہوسکتا ہے کہ ایک جانورکا گوشت صحت کے لئے مضرنہ ہو مگروہ مثلاً بعض فصلوں یا انسانوں میں بیماری پیداکرنے والے کیڑوں کو کھاتاہوتوگوشت کے لحاظ سے اس کاگوشت حلال بھی ہوگااورطیب بھی۔مگر پھر بھی بنی نوع انسان کاعام فائدہ دیکھتے ہوئے اس کاگوشت طیب نہ رہے گا۔کیونکہ اس کے کھانے کی وجہ سے انسان بعض اورفوائدسے محروم رہ جائیں گے۔حلال اور حرام کے سمجھنے کے متعلق ایک بچپن کا واقعہ مجھے بچپن ہی میں یہ سبق سکھایاگیاتھا۔میں بچپن