تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 232
حرام ہیں۔یہ نئی حرمت نہیں بلکہ میتہ اوردم کی تشریح ہے۔یہ سب کچھ بیان کرکےپھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَٓااُحِلَّ لَھُمْ (المائدۃ :۵) کہ مسلمان پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیاکیا چیز یں حلا ل کی گئی ہیں ؟اب اگر اِنَّمَاحُرِّمَ عَلَیْکُمْ کے معنے یہ ہوتے کہ ان کے سواباقی سب چیز یں کھانی جائزہیں توجب قرآن کریم نے ان چارچیزوں کو اس سوال سے پہلے بیان کردیاتھا۔یہ سوال دوبارہ کیوں کیاجاتا؟ حرام اورحلال چیزوں کے بیان کرنے کے بعد پھر اس سوال کوبیان کرنا اوراس کا جواب دینابتاتاہے کہ پہلی حلال چیزوں کی تشریح میں کچھ اغلاق ابھی باقی تھا جس کے متعلق صحابہ نے سوال کیا اوراللہ تعالیٰ نے بھی ان کے سوال کایہ جوا ب نہیں دیا کہ ابھی توہم بتاچکے ہیں پھر کیوں پوچھتے ہو۔بلکہ سوال کی ضرورت تسلیم کرکے اس کا جوا ب دیا ہے۔اوروہ جواب یہ دیا ہے کہ قُلْ اُحِلَّ لَکُمْ الطَّیِّبٰتُ (المائدۃ:۵)کہ باقی اشیاء میں سے جو طیّبات ہیں وہ حلا ل ہیں اورجو طیبات نہیں وہ حلا ل نہیں۔اس سے معلو م ہواکہ سب حلال چیزیںطیب نہیں ہیں۔جوطیب ہیں صرف ان کاکھا ناجائز ہے باقی کاکھا ناجائز نہیں۔لیکن ان کانام حرام نہیں رکھ سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی قسم کامضمون بیان فرمایا ہے۔ایک حدیث میں آتاہے کہ اِنَّ الْـحَلَالَ بَیِّنٌ وَالْـحَرَامَ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا اُمُوْرٌ مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ۔(بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبرأ لدینہ) یعنی حلال بھی بیان ہوچکے ہیں اورحرام بھی۔پھر ان دونوں کے درمیان مشتبہ امور ہوتے ہیں۔جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔پس ان کے بارہ میں قیاس اورعلم طب اورتجربہ وغیرہ سے کام لے کر فیصلہ کیاجائے گا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دیکھو ہر بادشاہ کی رکھ ہوتی ہے اوراللہ تعالیٰ کی رکھ اس کی محرمات ہیں۔جس طرح ہوشیارچرواہارکھ کے پاس نہیں چراتا۔تاایسانہ ہوکہ غفلت میں اس کے جانور اس میں چلے جائیں اوروہ سزاکامستحق ہوجائے۔اسی طرح مومن محرمات کے ساتھ کے علاقہ میں اپنے نفس کو نہیں چراتاتاپکڑانہ جائے۔اس روایت سے استنباط ہوتا ہے کہ حرام اشیاء سے ملتی جلتی اشیاء کوبھی گوحرام نہیں کہہ سکتے مگر ان سے بچنا تقویٰ کے لئے ضروری ہے۔نئی اشیاء کے حلال وحرام کے پرکھنے کا ذریعہ اس اصول کے مطابق جو نئی نئی اشیا ء دنیا میں نکلتی رہتی ہیں ان کے متعلق یہی حکم ہو گاکہ ہم ان کا قیاس حرام اورحلال پر کریں۔اگر حلال سے ان کی مشابہت زیادہ ہے توانہیں استعمال کریں۔اگرحرام سے مشابہت زیادہ ہے توان سے اجتناب کریں۔چنانچہ تازہ مثال اس قسم کی چیزوں کی