تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 231
اورابودائود کی روایت ہے کہ ابن عمر ؓ کا بھی یہی مذہب تھا۔اس میں آتاہے کہ اَنَّہٗ سُئِلَ عَنْ اَکْلِ الْقُنْفُذِ فَتَلَا قُلْ لَّٓا اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ الآیۃ(سنن ابوداؤد کتاب الاطعمۃ باب فی اکل حشرات الارض۔۔۔) اورعائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ابن ابی حاتم نے اوربعض اَورلوگوں نے مسند صحیح سے بیان کیا ہے کہ اِنَّھَا کَانَتْ اِذَاسُئِلَتْ عَنْ اَکْلِ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَمخْلَبٍ مِنَ الطَّیْرِ قالتْ قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآاُوْحِیَ اِلَیَّ الآیۃ۔(روح المعانی سورۃ الانعام زیر آیت ۱۴۳ تا ۱۴۷) اسی طرح ابن ابی حاتم نے ابن عباسؓ سے بھی روایت کی ہے کہ قَالَ لَیْسَ مِنَ الدَّوَابِّ شَیْءٌ حَرَامٌ اِلَّا مَاحَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ فِی کِتَابِہٖ قُلْ لَّآاَجِدُ۔امام مالکؓ کابھی یہی مذہب تھا۔(روح المعانی زیر آیت سور ۃ انعام زیر آیات ۱۴۳ تا ۱۴۷) اب سوال یہ ہے کہ کیاباقی سب چیزوں کا کھاناجائز ہے بعض ائمہ کایہ مذہب ہے کہ ان کے سواباقی سب اشیاء کاکھانا جائز ہے مگر میرے نزدیک باوجود ا س کے بعض اشیا ء کاکھانا ناجائز ہے۔مگر ہم انہیں شریعت کی اصطلاح میں حرام نہیں کہہ سکتے۔چنانچہ ابن ماجہ میں سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا۔اَلْحَلَالُ مَا اَحَلَّ اللہُ فِیْ کِتَابِہِ وَالْـحَرَامُ مَاحَرَّمَ اللہُ فِیْ کِتَابِہٖ(ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ باب اکل الجبن والسمن) جو خدا تعالیٰ نے حرام کیا صرف وہی حرام ہوگا باقی اس کے تابع ہوں گے اس سے میں یہ نتیجہ نکالتاہوں کہ خدا تعالیٰ نے جن اشیاء کو حلا ل کیا ہے انہی کو ہم حلال کہہ سکتے ہیں اورجن کو حرام کہا ہے انہی کو ہم حرام کہہ سکتے ہیں۔باقی جو درمیانی چیز یں ہیں ان کے متعلق حکم حلال اورحرام کے تابع ہو گا۔دلالۃ النص کے طور پر نہ ہو گا۔سورۃ مائدہ میں بھی اشارۃً اس صداقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔وہاںفرمایا ہے اُحِلَّتْ لَکُمُ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَایُتْلٰی عَلَیْکُمْ (المائدۃ :۲)۔چوپایوں میں سے تم پر انعام کی قسم کے بہائم حلال ہیں سوائے ان کے جن کا ذکر حراموں میں کیاگیاہے۔حرام کے مقابل پر حلال اشیاء انعام کی کئی قسمیں ہیں۔اونٹ۔بکری۔مینڈہا۔دنبہ۔گائے۔یہ حلال ہیں۔اس کے بعد فرمایا کہ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِوَمَآاُھِلَّ لِغَیْرِاللّٰہِ بِہٖ (المائدۃ :۴) یعنی ان حلال چیز وں کے مقابل پر کچھ حرام بھی ہیں۔اول مردہ خواہ حلال جانور کا ہو۔دوسرے خون وہ بھی خواہ حلال جانورکاہو۔تیسرے خنزیر کاگوشت۔چوتھے جس پر خدا تعالیٰ کے سوادوسر ے معبودوں کانام بلند کیا گیا ہو خواہ وہ جانور حلال ہی کیوں نہ ہو ں پھر مردہ اورخون کی مزید تشریح کی گئی ہے اورفرمایا ہے۔کہ نَطِیْحَۃُ۔مَوْقُوْذَۃٌ وغیرہ