تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 230

حرام ہیں جو ہم بتاتے ہیں۔اورحرمت کی نفی بقیہ اشیاء کے متعلق نہیں سمجھی جائے گی بلکہ ان اشیاء کے متعلق سمجھی جائے گی جن کاحرام ہوناکفار بیان کرتے تھے۔بعض نے کہا ہے کہ جب یہ آیت ناز ل ہوئی تھی اس وقت تک یہی چا رچیزیں حرام تھیں باقی بعد میں ہوئیں۔یہ جواب واقعات کے لحاظ سے بھی غلط ہے اوراس لئے بھی کہ اس سے آیت کے لفظ اِنَّمَا کوآئندہ کے لئے منسوخ ماننا پڑتا ہے مگرقرآن کریم کاکوئی لفظ منسوخ نہیں۔بعض نے مجبورہوکر کہہ دیا ہے کہ یہی چارچیزیں حرا م ہیں۔ان کے سوااورکوئی شے حرام نہیں(تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت ھذا)۔اس آیت میں حصر زمانی یا حصر اضافی میر ے نزدیک حصر اضافی بعض صورتوں میں جائز ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں جہاں بھی حرمت کا ذکر کیا گیا ہے وہاں پر حصر انہی چار چیزوں پرکیا گیا ہے۔یہ ذکرچار سورتوں میں ہے۔سورۃ نحل۔بقرہ۔انعام۔مائدہ۔سورۃ نحل اورانعام میں تواس سے پہلے یہ ذکر موجو دہے کہ کفار اپنی مرضی سے مختلف اشیاء کو حلال و حرام کرلیتے تھے۔مگر سورۃ مائدہ اوربقرہ میں یہ ذکر بالکل نہیں۔سورۃ بقرہ میں تواعمال خیر کے مسئلہ میں اس مسئلہ کو بیا ن کیا ہے اورسور ۃ مائدہ میں کفارکے حلال و حرام کرنے کا ذکر کئے بغیر حلال وحرام کی ایک مستقل بحث کی گئی ہے۔اوراس جگہ حرام اشیاء کو بھی گنایاگیا ہے۔پس چونکہ دواورسورتوں میں حصر توموجود ہے مگر ان میں کفار کے حلال و حرام کرنے کاکوئی ذکرنہیں۔اس لئے اس حصر کو اضافی قرار دینا ٹھیک معلوم نہیں ہوتا۔آیت میں حصر زمانی درست معلوم نہیں ہوتا جنہوں نے کہاہے کہ حصر زمانی لحاظ سے ہے ان کا قول بھی درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ مکہ کے زمانہ تک تویہ تشریح درست ہوسکتی تھی۔مگر یہی آیات سورۃ بقرہ میں بھی نازل ہوئی ہیں۔جس کا زمانہ ہجرت کے تیسرے سال تک پہنچتا ہے۔اورمائدہ میں بھی نازل ہوئی ہے جو سب سے آخری سورتوں میں شمار کی جاتی ہے۔پس جبکہ یہی آیت بعینہٖ مدنی سورتوں میں بھی ہے جس زمانہ میں کئی دوسری چیزوں کے استعمال سے روکاجاچکاتھا تویہ تاویل بھی درست نہیں ہوسکتی۔اب رہا ان لوگوں کا قول جنہوں نے کہا ہے کہ یہی چیزیں حرام ہیں کوئی اَورچیز حرام نہیں۔سومیرے نزدیک ان کی بات درست ہے کیونکہ اس کے سوااَورکوئی معنے نہیں بن سکتے۔جن لوگوں کایہ مذہب ہے ان میں سے ایک ابن عباس ؓہیں۔ان کے متعلق بخاری میں جابر بن عبداللہ سے ایک روایت آتی ہے کہ ان کا یہی مذہب تھا کہ یہی چار چیز یں حرام ہیں جو اس آیت میں بیان ہیں۔