تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 198

بڑھایا۔اَلْاَمْرَ: اَصْلَحَہٗ وَاَتَمَّہٗ کام کو درست اور مکمل کیا۔اَلدُّھْنَ: طَیَّبَہٗ وَاَجَادَہٗ۔تیل میں عمدگی اور خوبی پیدا کی۔اَلصَّبِیَّ: رَبَّاہُ حَتّٰی اَدْرَکَ بچہ کی تربیت کی حتیٰ کہ وہ اپنے کمال کو پہنچ گیا۔(اقرب) یُثَبِّتُ۔یُثَبِّتُ ثَبَّتَ سے مضارع واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے۔ثَبَّتَ کے معنوںکے لئے دیکھو ابراہیم آیت۲۷۔یُثَبِّتُ ثَبَّتَ کا مضارع ہے۔جس کا مجرد ثَبَتَ ہے اور ثَبَتَ الْاَمْرُ عِنْدَ فُلَانٍ کے معنے ہیں تَحقَّقَ وَ تَاَکَّدَ۔کوئی امر کسی کے نزدیک یقینی طور پر ثابت ہو گیا۔ثَبَتَ فُلَانٌ عَلَی الْاَمْرِ۔دَاوَمَہُ۔کسی کام پر دوام اختیار کیا۔وَاثْبَتَہ وَثبَّتَہُ۔جَعَلَہُ ثَابِتًا فِیْ مَکَانِہِ لَایُفَارِقُہُ۔اور اَثْبَتَہُ اور ثَبَّتَہُ کے معنے ہیں اس کو اس کی جگہ پر ایسے طور پر ثبات بخشا اور مضبوط رکھا کہ وہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکے۔سو ثابت کے معنے ہوں گے اپنی جگہ پر مضبوط رہنے والا۔(اقرب) ھُدًی:ھُدًی ھدٰی کامصدر ہے ھدٰی کے لئے دیکھو رعدآیت نمبر۲۸۔یَھْدِی ھُدًی سے ہے اور ھَدَاہُ الطَّرِیْقَ وَاِلَیْہِ وَلَہُ کے معنے ہیں بَیَّنَہُ لَہُ وَعَرَّفَہُ بِہِ۔راستہ دکھایا ، بتایا اور واضح کیا۔ھَدٰی فُلَانًا۔تَقَدَّمَہُ اس کے آگے آگے چل کر منزل مقصود تک لے گیا۔ھَداہُ اللہُ اِلَی الْاِیْمَانِ: اَرْشَدَہُ۔ایمان کی طرف رہنمائی کی۔(اقرب) تفسیر۔قرآن مجید کا پہلی کتب سے اختلاف اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل نہیں اس آیت میں کفار کے اعتراض کا ایک اورجواب دیاہے۔پہلی آیت میں تویہ جواب دیاتھا کہ یہ تعلیم زمانہ کے مطابق ہے۔اس لئے اگر بعض مواقع پر اس کو پہلی کتب سے اختلاف ہے تویہ اس کے جھوٹاہونے کی دلیل نہیں۔بلکہ اس امرکی دلیل ہےکہ اب زمانہ بدل گیا ہے۔اب بعض اَورجواب دیتاہے۔پہلی کتب سے اختلاف رکھتے ہوئے قرآن مجید کے سچا ہونے کے چاردلائل (۱)اس کتاب کو روح القدس نے اتاراہے یعنی اس کلام میں نہایت پاکیزہ تعلیم ہے۔اگریہ مفتری کاکلام ہوتا توافتراء کرنے والے کی کوئی غرض تو اس کلام میں نظرآتی۔لیکن ساراقرآن پڑھ جائو اس میں محمد رسول اللہ ؐ کی اپنی کوئی غرض تم کو نظرنہ آئے گی۔بلکہ اس کلام کے پیچھے ایک پاکیزگی کی روح کام کرتی ہوئی تم کو دکھائی دے گی۔اس پاکیزگی کی روح سے تم سمجھ سکتے ہو کہ جہاں اس کو پہلی کتب سے اختلاف ہو اوراس اختلاف کی کوئی توجیہ نہ ہوسکے تویہی مانناپڑے گاکہ وہ کتب بگڑ گئی ہیں۔یہ نہیں کہاجاسکتاکہ قرآن خدا کاکلام نہیں۔کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ خدائی کلام توپاکیزگی کی روح