تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 197
علاوہ ازیں اگلی آیت بھی ان معنوں کو ردّکررہی ہے کیونکہ اس آیت میں اس اعتراض کادوسرا جواب دیاگیا ہے جو یہ ہے کہ اس قرآن کوروح القدس نے اتاراہے۔ا ب یہ ظاہر ہے کہ روح القدس کااتارنا کفارکے اس اعتراض کا جواب نہیں ہوسکتا کہ پہلے اس نے نعوذباللہ مشرکانہ تعلیم دی تھی اب اسے بدل کیوں دیاگیا ہے۔کیونکہ روح القدس کااتارنا اس کے محفوظ ہونے کی دلیل توبن سکتاہےشیطان کی ملونی اورا س کے بعد اس کی منسوخی کی دلیل نہیں بن سکتا۔قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ تو(ایسے معترض سے )کہہ (کہ)روح القدس نے اسے تیرے رب کی طرف سے حق(وحکمت )کے ساتھ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ اتاراہے تاکہ جو لو گ ایمان لائے ہیں انہیں وہ(ایمان پر)ہمیشہ کے لئے قائم کردے اور(نیز اس نے )کامل بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۠۰۰۱۰۳ فرمانبرداروں کی(مزید)رہنمائی کے لئے اور(انہیں )بشارت دینے کے لئے اسے اتاراہے۔حلّ لُغَات۔اَلْحَقّ اَلْحَقُّ کے لئے دیکھو ابراہیم آیت نمبر۲۳۔رعد آیت نمبر ۱۵۔رَبّ کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۴۔اَلْحَقُّ۔حَقَّ کا مصدر ہے۔اور حَقَّہُ حَقًّا کے معنے ہیں غَلَبَہُ عَلَی الْـحَقِّ۔حق کی وجہ سے اس پر غالب آیا۔وَالْاَمْرَ اَثْبَتْہُ وَاَوْجَبَہُ۔کسی امر کو ثابت کیا اور واجب کیا۔کَانَ عَلٰی یَقِیْنٍ مِنْہُ۔کسی معاملہ پر یقین سے قائم تھا۔اَلْخَبْرَ۔وَقَفَ عَلٰی حَقِیْقَتِہِ اور حَقَّ الْخَبْرَ کے معنے ہوں گے اس کی حقیقت سے آگاہ ہوا اور اَلْحَقُّ کے معنے ہیں ضِدُّ الْبَاطِلِ سچ۔اَلْاَمْرُ الْمُقْضِیُّ فیصلہ شدہ بات۔اَلْعَدْلُ۔عدل۔اَلْمِلْکُ۔ملکیت۔اَلْمَوْجُوْدُ الثَّابِتُ۔موجودہ قائم۔اَلْیَقِیْنُ بَعْدَ الشَّکِّ۔یقین۔اَلْمَوْتُ۔موت اَلْحَزْمُ دانائی۔(اقرب) الرَّبُّ۔مالک، آقا یا مطاع مستحق یا صاحب الشئے یعنی کسی چیز والا۔رَبَّ الشَّیْءَ۔جَمَعَہٗ اس چیز کو جمع کیا مَلَکَہٗ اس کا مالک ہوا۔اَلْقَوْمَ سَاسَھُمْ وَکَانَ فَوْقَھُمْ قوم پر حکومت اور سیاست کی۔النِّعْمَۃَ : زَادَھَا نعمت کو