تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 192

سکتا۔دوسرے لوگوں کاہی ذکر ہے۔وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ اورجب ہم کسی نشان کی جگہ پر کوئی اورنشان لاتے ہیں اور(اس میں کیا شک ہے کہ )اللہ(تعالیٰ)جوکچھ اتارتاہے قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ اس (کی ضرور ت)کووہ (سب سے)بہترجانتاہے تو(مخالفین )کہتے ہیں کہ تومفتری ہے (مگرحقیقت یوں ) لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۱۰۲ نہیں بلکہ ان میں سے اکثر علم نہیں رکھتے۔حلّ لُغَات۔یُنَزِّلُ۔یُنَزِّلُ نَزَّلَ سے مضارع واحد مذکرغائب کاصیغہ ہے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو سورۃ حجرآیت نمبر ۲۳۔نُنَزِّلُ نَزَّلَ سے مضارع جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اور نَزَّ لَہُ کے معنے ہیں۔صیَّرَہُ نَازِلًا اس کو اترنے والا کردیا۔یعنی ایسی حالت میں کردیا کہ اُترے۔اَلْقَوْمَ:اَنْزَلھُمُ الْمَنَازِلَ۔لوگوں کو ان کی جگہوں پر اتارا۔اَلشَّیْءَ:رَتَّبَہُ۔کسی چیز کو مرتب کیا۔عِیْرَہُ:قَدَّرَلَھَا الْمَنَازِلَ۔قافلہ کے امام نے قافلہ کے لوگوں کے لئے جگہیں مقرر کردیں (اقرب) تَنْزِیْلٌ اصل میں آہستہ آہستہ اتارنے کو کہتے ہیں۔تفسیر۔آیت کے معنی اور اس سے مراد اٰیَۃً کے اصل معنے نشان کے ہیں۔گوقرآن کریم کے جملوں کو بوجہ اس کے کہ ان میں سے ہرایک اپنی ذات میں ایک نشانِ ہدایت ہے۔آیت کہتے ہیں۔مگراٰیَۃً کے معنے کتاب کے فقرے کے نہیں ہوتے۔اورقرآن کریم میں کسی جگہ پراس لفظ کا استعمال یقینی طورپر ان معنوں میں نہیں ملتا۔اگربعض جگہ آیت کالفظ جملہ کے معنوں میں نظر بھی آتاہے تووہ بھی یقینی نہیں کیونکہ اس جگہ دلیل اورنشان کے معنے بھی ہوسکتے ہیں۔ہاں مسلمانوں میں شروع سے اس لفظ کا استعمال ان معنوں میں مروّج چلاآتاہے۔صحابہ بھی قرآنی جملوں کو اٰیۃ کہہ کرپکارتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام میں بھی یہ استعمال پایاجاتا ہے (بخاری کتاب التفسیر باب تفسیر ان الصفا و المروة۔۔۔)۔اس استعمال سے دھوکاکھاکر بعض مفسرین نے اس