تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 193
آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ جب قرآن کریم کی ایک آیت منسوخ کرکے دوسری آیت نازل کی جاتی۔توکفار اعتراض کرتے کہ تم جھوٹے ہو۔اگرقرآن خدا تعالیٰ کاکلام ہوتا تواس کی آیتیں منسوخ کیوں ہوتیں (تفسیر قرطبی زیر آیت ھذا)۔میرے نزدیک یہ معنے درست نہیں کیونکہ تاریخ سے کوئی ایک آیت بھی ثابت نہیں ہوتی جسے بدل کر اس کی جگہ دوسری آیت رکھی گئی ہو۔اگرایسا ہوتا توقرآن کے سینکڑوں حافظ جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن کریم کوحفظ کرلیاتھااس امر کی شہادت دیتے کہ پہلے ہمیں فلاں آیت کے بعد فلاں آیت یاد کروائی گئی تھی۔لیکن اس کے بعد اسے بدل کر فلاں آیت یاد کرائی گئی۔اس قسم کی شہادت کانہ ملنا بتاتا ہے کہ اس بارہ میں جس قدرخیالات رائج ہیں ان کی بنیاد محض ظنیات پر ہے نہ کہ علم پر۔میں اس کا منکر نہیں کہ بعض احکام زمانہ نبوی ؐ میں بدلے گئے ہیں۔مگرمجھے قرآن کریم کے کسی حکم کی نسبت ثبوت نہیں ملتا کہ پہلے اورطرح ہو اوربعد میں بدل دیاگیاہو۔میرے نزدیک جو احکام وقتی ہوتے تھے وہ غیر قرآنی وحی سے نازل ہوتے تھے۔قرآن کریم میں اترتے ہی نہ تھے۔اس لئے قرآن کریم کوبدلنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی تھی۔ناسخ منسوخ کے متعلق بحث اس پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اگرآیاتِ قرآنیہ کوکبھی بدلا نہیں گیاتواس آیت کے کیا معنے ہوئے ؟تواس کا جواب یہ ہے کہ اٰیَۃً کے وہ معنے جن میں یہ لفظ بالعمو م قرآن کریم میں استعمال ہواہے۔نشان آسمانی کے ہیں۔اور وہی اس جگہ مراد ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم ایک نشان بدل کر اس کی جگہ دوسرانشان لے آتے ہیں اورایساکرناقابل اعتراض نہیں ہوتاکیونکہ اس امرکو تواللہ تعالیٰ ہی جانتاہے کہ کونسانشان کس موقعہ کے لئے مناسب ہے توکفار اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ تُوتوجھوٹاہے۔مگریہ اعتراض ان کاجہالت پرمبنی ہوتاہے۔یہ وہ قانون ہے جس کاظہور ہر نبی کے زمانہ میں ہوتاہے۔یعنی ہرنبی کو بعض انذاری باتیں بتائی جاتی ہیں جودرحقیقت مشروط ہوتی ہیں۔مخاطب قوم کے قلوب کی حالت سے۔اگروہ اپنے دل کی حالت بد ل لیں تووہ انذار کی خبر بھی ٹل جاتی ہے۔جیسے قرآن کریم میں حضرت یونس ؑ کی قوم کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ ان کی ہلاکت کی خبر حضرت یونسؑ کی معرفت دی گئی۔مگربعد میں ان کی توبہ کی وجہ سے اسے بدل دیاگیا۔(یونس آیت ۹۹) انذاری پیشگوئیاں مشروط ہوتی ہیں یہ عام قانون انذاری پیشگوئیوں کے متعلق ہے کہ اگر مخالف توبہ کرلیں تومقدرعذاب کو روک دیاجاتا ہے۔ہاں وعدہ کی خبر ضرور پوری ہوکر رہتی ہے۔مگراس کے متعلق بھی سنت اللہ یہ ہے کہ اگروہ قوم جس سے وعدہ ہو پوری قربانی سے کام نہ لے یاپوری فرمانبرداری نہ دکھا ئے تواس کے پوراہونے میں