تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 191

مقام ہے۔اسی وجہ سے اسلام نے دنیاکو چھوڑنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ دنیا کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے اس کی اصلاح کاحکم دیا ہے۔اگرنیکوں کودنیا سے علیحدہ رکھا جائے توظاہر ہے کہ دنیا کی اصلاح کبھی ہوہی نہیں سکتی۔اگر ایسے لوگوں کے ہاتھو ں میں دنیا کی باگ آئے جوباوجود دنیا پر تصرف حاصل کرلینے کے انصاف اورعد ل اورتقویٰ قائم رکھیں تبھی دنیا کی اصلاح ہوسکتی ہے۔اوردوسروں کے لئے نیک مثال قائم ہوسکتی ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپ کے صحابہ کے ہاتھ جب دنیا کانظم و نسق آیا۔توانہوں نے کس طرح اس میں پڑ کراس سے علیحدہ رہنے کانمونہ دکھایا۔اورایک ایسی شاندارمثال قائم کی جو اب بھی کہ اس پر تیرہ سوسال گذر چکے ہیں۔اہل عقل کے دلوں میں گدگدیاں پیداکردیتی ہے۔اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ اس کاتسلط صرف ان لوگوں پر (ہوتا)ہے۔جواس سے دوستی رکھتے ہیں۔اورجو اس کی وجہ مُشْرِكُوْنَؒ۰۰۱۰۱ سے شرک کرتے ہیں۔تفسیر۔هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ میں ضمیر بہ کا مرجع هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۔بِہٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جاسکتی ہے جس کا ذکر رَبِّھِمْ کے الفاظ میں پہلی آیت میں ہوچکاہے۔اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ اس کاتصرف ان لوگوں پرہے جو اپنے رب کے شریک قرار دیتے ہیں۔اوراس ضمیرکامرجع شیطان بھی ہوسکتا ہے۔اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ وہ شیطان کے سبب سے شرک میں مبتلاہوجاتے ہیں۔اس آیت میں یہ بتلایاہے کہ شیطان کا قبضہ اورتصرف اس کے دوستوں پرہوتاہے جوشخص استعاذہ کرتاہے وہ توگویااس سے دشمنی کااعلان کرتاہے۔اس لئے وہ اس کے قبضہ سے نکل جائے گا۔استعاذہ کے حکم میں آنحضرت ؐ کا ذکر نہیں ہو سکتا اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ والی آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق نہیں۔کیونکہ اس میں تویہ بتایا ہے کہ اس کا قبضہ اپنے دوستوں پر ہوتاہے نہ کہ ان لوگوں پر جو خدا تعالیٰ پر توکل کرنےوالے ہوں۔اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے متواتر اعلان ہوچکاہے کہ ’’میراتوکل توصرف خدا پر ہے ‘‘۔پس اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوہی نہیں