تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 161

نحل آیت نمبر۱۶۔پس اَلْقَوْا اِلَیْہِمُ الْقَوْلَ کے معنی ہوں گے وہ ان کو جلدی سے کہیں گے۔تفسیر۔اَلْقَی اِلَیْہ القَوْلَ کے معنے ہیں کہ اس کی طرف جواب پھینکا۔اورپھینکنے سے مراد یہ ہے کہ وہ فوراً ان کے منہ پرجواب الٹاکر ماریں گے کہ بس جھوٹ نہ بولو۔کفر اور گناہ کی دوستی کبھی پکی نہیں ہو سکتی یہ عجیب بات ہے کہ دنیا میں ان کی خاطر یہ لوگ نبیوں سے لڑا کرتے تھے۔مگر قیامت کو خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ ان معبودوں کو پکڑو کہ یہی ہم کو گمراہ کرتے تھے۔ا س میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ کفرو گنا ہ کی دوستی کبھی پکی نہیں ہوتی۔کیونکہ انسان ایک حد تک دوسرے کی خاطر تکلیف اٹھاسکتاہے۔حد سے زیاد ہ نہیں۔پس کفر کی وجہ سے چونکہ مختلف عذاب آتے رہتے ہیں درمیا ن میں ایسے مواقع بھی آتے رہتے ہیںجب اس دوستی کی حد ختم ہوجاتی ہے اورایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار شروع ہوجاتا ہے۔یہ جو فرمایا فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اس کے معنے ایک تواچھی طرح کہنے کے ہوتے ہیں۔کہتے ہیں اَلْقَی اِلَیْہِ الْقَوْلُ:اَبْلَغَہُ۔اس تک بات پہنچا دی ان معنوں کے روسے ترجمہ یہ ہوگاکہ وہ خو ب زور سے انہیں کہہ دیں گے۔نیز القی کے معنے پھینکنے کے بھی ہیں اورپھینکنے کے لفظ میں جلد ی کامفہوم پایا جاتا ہے۔پس اَلْقَوْا اِلَیْہِمُ الْقَوْلَ کے یہ معنے بھی ہیں کہ وہ فوراً جوا ب دیں گے۔فَلَایُخَفَّفُ عَنْھُمْ سے بتایا کہ یہ عذر ان کا غیر معقول ہے اگر کسی نے گمراہ کیا تھا تووہ گمراہ ہوئے کیوں ؟کیوں نہ ورغلانے والے کی بات کو رد کیا۔وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِ ا۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا اور(ا س حالت کو دیکھ کر )وہ (ظالم جلدی سے )اللہ(تعالیٰ)کے حضور(اپنی )اطاعت کا اظہار کریں گے اورجو کچھ يَفْتَرُوْنَ۰۰۸۸ و ہ اپنے پا س سے گھڑا کرتے تھے وہ (سب ان کے ذہنوں سے )غائب ہوجائے گا۔حلّ لُغَات۔السَّلَمَ السَّلَمَکے لئے دیکھو نحل آیت نمبر۲۹۔ضَلَّ عَنْھُمْ ضَلَّ عَنْھُمْکے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۳۱۔ضَلَّ یَضِلُّ ضِدّ اِھْتَدٰی یعنی ہدایت کے خلاف حالت پر ہو گیا۔اور دین اور حق کو نہ پایا۔ضَلّ عَنْہُ