تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 162

یَضَلُّ: لَمْ یَھْتَدِ اِلَیْہِ۔اس طرف راہ نہیں پائی۔ضَلَّ یَضَلُّ (ضاد کی زبر سے) فُلَانٌ الطَّرِیْقَ وَ عَنِ الطَّرِیْقِ: لَمْ یَھْتَدِ اِلَیْہِ۔راستہ نہ پایا۔یہی معنی ہوتے ہیں۔جب داریا منزل یا ہر اپنی جگہ پر قائم رہنے والی چیز کا اس کے بعد مذکور ہو۔ضَلَّ الرَّجُلُ فِی الدِّیْنِ ضِلَالًا وَضَلَالَۃً: ضِدُّ اِھْتَدٰی۔اس شخص نے دین کے معاملہ میں درست راہ نہیں پائی۔ضَلَّ فُلَانٌ الْفَرَسَ۔اس کا گھوڑا کھویا گیا۔ضَلَّ عَنّیْ کَذَا: ضَاعَ۔ضائع ہو گیا۔ضَلَّ الْمَاءُ فِی اللَّبَنِ :خَفٰی وَ غَابَ۔پانی دودھ میں مل گیا۔اور غائب ہو گیا۔ضَلَّ فُلَانٌ فُلَانًا: نَسِیَہُ۔اس شخص کو بھول گیا۔ضَلَّ النَّاسِی: غَابَ عَنْہُ حِفْظَ الشَّیْءِ بھول گیا۔اس کے ذہن سے بات نکل گئی۔ضَلَّ سَعْیُہُ: عَمِلَ عَمَلًا لَمْ یَعُدْ عَلَیْہِ نَفْعُہُ۔ایسا کام کیا جس کا اسے کوئی نفع نہ ہوا۔(اقرب) یَفْتَرُوْنَ یَفْتَرُوْنَ اِفْتَرٰی سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اور اِفْتَرٰی عَلَیْہ الْکَذِبَ کے معنے ہیں : اِخْتَلَقَہٗ۔اس کے خلاف جھو ٹ بنالیا (اقرب)پس ضَلَّ عَنْہُمْ مَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ کے معنے ہوں گے جو وہ گھڑا کرتے تھے ضائع ہوجائے گا۔تفسیر۔قیامت کے دن کفار کی لجاجت اپنے معبود ان کے سامنے یعنی جب کفار دیکھیں گے کہ آج تووہ بھی ہمارے دشمن ہو رہے ہیں جن کی ہم عبادت کیاکرتے تھے تووہ جلد ی سے اپنے رویہ کو بدل کر لجاجت سے باتیں کرنی شروع کردیں گے اورکہیں گے کہ ہم توآپ ہی کے بندے ہیں یہ عبادت وغیرہ توصر ف توجہ کے قیام کے لئے تھی یاہم یہ کام نیک نیتی سے سچ سمجھ کرکرتے تھے کو ئی اللہ تعالیٰ سے بغاوت کا منشاء نہ تھا اورجو بڑے بڑے دعوے وہ دنیا میں کرتے تھے سب غائب ہوجائیں گے۔اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا جن لوگوں نے (خود بھی )کفر(کاطریق )اختیار کیا ہے اور(دوسروں کو بھی )اللہ (تعالیٰ ) کی راہ سے روکاہے ا ن فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْنَ۰۰۸۹ کو ہم اس عذاب سے بڑھ کر ایک اورعذاب دیں گے کیونکہ وہ (ہمیشہ )فساد (کے کام )کرتے تھے حل لغات۔اَلْفَوْقُ:اَلْفَوْقُ فَاقَ کامصدر ہے۔جس کے معنے بلند ہونے کے ہیں۔اصل میں یہ