تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 160

َ اِذَا رَاَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰٓؤُلَآءِ اورجن لوگوں نے (اللہ تعالیٰ کے )شریک بنائے ہیں جب و ہ(ان)اپنے (بنائے ہوئے )شریکو ں کو دیکھیں گے شُرَكَآؤُنَا الَّذِيْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا توکہیں گے (کہ)اے ہمارے رب یہ ہمارے (بنائے ہوئے )شریک ہیں جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکاراکرتے اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ۰۰۸۷ تھے جس پر وہ (بڑی جلد ی سے)انہیں کہیں گے (کہ)تم یقیناًجھوٹے ہو۔حلّ لُغَات۔مِنْ دُوْنِکَ دُوْنَ کالفظ عربی میں آٹھ معنوں میں مستعمل ہوتاہے (۱) فَوْقَ (یعنی بلند ہونے )کے مخالف معنے دیتاہے کہتے ہیں۔ھُوَدُوْنَہُ اَیْ اَحَطُّ مِنْہُ رُتْبَۃً۔کہ وہ اس سے رتبہ میں کم ہے (۲)ظرف کے طور پر استعمال ہوتاہے اورا س کے معنے اَسْفَلَ(یعنی نیچے ہونے )کے ہوتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں ھٰذَادُوْنَ ذَاکَ اَیْ مُتَسَفِّلٌ عَنْہُ۔یہ اس سے نیچے واقع ہے۔(۳) اَمَامَ(یعنی آگے)کے معنوں میں استعمال ہوتاہے کہتے ہیں مَشٰی دُوْنَہُ اَیْ اَمَامَہُ وہ اس کے آگے آگے چلا۔(۴) وَرَاءَ( پیچھے )کے معنوں میں استعمال ہوتاہے جیسے کہتے ہیں قَعَدَ دُوْنَہُ اَیْ وَرَاءَ ہٗ۔وہ اس کے پیچھے بیٹھا۔(۵)اور کبھی دُوْنَ کے معنے فَوْقَ (یعنی بلند ہونے )کے ہوتے ہیں۔گویایہ لفظ اضداد میں سے ہے (۶)اس کے معنی غَیْرٌ(یعنی سواء)کے بھی ہوتے ہیں۔(۷)اس کے معنی شریف (اعلیٰ درجہ) کے ہوتےہیں۔(۸)کسی چیز کے خَسِیْسٌ ہونے کے ہوتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں شَیْءٌ دُوْنٌ اَیْ خَسِیْسٌ کہ یہ چیز کم درجہ کی ہے (اقرب)علاوہ ازیں کہتے ہیں۔حَالَ الْقَوْمُ دُوْنَ فُلَانٍ اَیْ اِعْتَرَضُوْابَیْنَہٗ وَبَیْنَ مَنْ یَطْلُبُہٗ فَلَمْ یَقْدِرْ اَنْ یَنَا لَہُ۔یعنی فلاں کے درمیا ن قوم حائل ہوگئی اوراس کو اس کے تلا ش کرنے والے سے بچالیا۔(اقرب) اَلْقَوْااَلْقَوْااَلْقٰی سے جمع کاصیغہ ہے اوراَلْقَاہُ اِلَی الْاَرْضِ کے معنے ہیں طَرَحَہٗ۔اس کوزمین پر پھینکا اور أَلْقَی اِلَیْہِ الْقَوْلَ وَبِالْقَوْلِکے معنے ہیں۔اَبْلَغَہٗ اِیَّاہُ اس کو کوئی بات پہنچا دی۔اَلْقَی عَلَیْہِ الْقَوْلَ: اَمْلَاہُ۔اُسے کوئی بات لکھادی۔اَلْقَی اِلَیْہِ السَّمْعَ:اَصْغٰی۔اس کی بات توجہ سے سنی (اقرب) مزید تشریح کے لئے دیکھو