تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 154

لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ۰۰۸۲ تمہار ی(آپس کی)جنگ (کی سختی)سے بچاتی ہیں۔اسی طرح وہ تم پر اپنے(روحانی )انعام کو(بھی )پوراکرتاہے تاکہ تم (اس کے )کامل فرمانبرداربنو۔حلّ لُغَات۔اَکْنَانٌ:اَکْنَانٌ کِنٌّ کی جمع ہے اوراَلْکِنُّ کے معنے ہیں :وِقَاءُ کُلِّ شَیْءٍ وَسَتْرُہُ۔ہر چیز کاپردہ۔اوراس کو محفوظ رکھنے والاجسم۔اَلْبَیْتُ:گھر۔(اقرب) سَرَابِیْلُ سَرَابِیْلُکے لئے دیکھو سورۃ ابراہیم آیت نمبر۵۱۔سَرَابِیْلُ سِرْبَالٌ کی جمع ہے۔اَلسِّرْبَالُ: اَلْقَمِیْصُ سربال کے معنی ہیں قمیص۔وَقِیْلَ اَلدِّرْعُ اور زرہ کو بھی سربال کہتے ہیں۔وَقِیْلَ کُلُّ مَالَبِسَ اور بعض نے اسے عام رکھا ہے کہ ہر وہ چیز جو پہنی جائے سربال ہے۔بَأسٌ بَأسٌ :اَلشِّدَّۃُ فِی الْـحَرْبِ لڑائی کی شدت کو بأس کہتے ہیں۔(اقرب) تُسْلِمُوْنَ تُسْلِمُوْنَ اَسْلَمَ سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔اوراَسْلَمَ کے معنے ہیں اِنْقَادَمطیع ہوگیا اَسْلَمَ فُلَانٌ:تَدَیَّنَ بِالْاِسْلَامِ۔مذہب اسلام میں داخل ہوگیا۔اَسْلَمَ الْعَدُوَّ:خَذَلَہُ۔دشمن کو رسواکیا۔اَسْلَمَ اَمْرَہُ اِلَی اللہِ :سَلَّمَہُ۔اپنے معاملے کو اللہ کے سپردکردیا (اقرب)پس لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ کے معنے ہوں گے (۱)تاکہ تم کامل فرمانبردار بنو(۲)تم اپنے معاملات کو اللہ کے سپردکرو۔تفسیر۔اس آیت میں بھی سابق آیت کا مضمون چل رہاہے اورچند اَورانعامات گناتاہے کہ سفر کرتے ہو تو آرام سے درختوں تلے رہتے ہو۔پہاڑوں میں آرام کرتے ہو۔لباس دئے ہیں جن سے گرمی کی تکلیف سے محفوظ رہتے ہو۔اورزرہیں دی ہیں جن کی مدد سے لڑائی میں تمہاری حفاظت ہوتی ہے۔یہ سب نعمتیں ا س لئے دی گئی ہیں تاآرام سے رہو اوردشمنوں کے حملوں سے محفوظ رہو۔مگر اب تم اپنے ہاتھو ں سے اس امن کو برباد کرنے لگے ہو اوراللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتیں اُسی کے خلاف استعمال کرناچاہتے ہو۔خدا تعالیٰ توچاہتا تھا کہ ان نعمتوں کے شکریہ میں اس کے فرمانبرداربنو۔لیکن ہوایہ ہے کہ یہی امن تم کو مغرورکرکے خدا تعالیٰ ہی کے خلاف کھڑارہا ہے۔لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ کے معنی لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ علاوہ ان معنوںکے جواوپر بیان ہوئے ہیں مُسلم کے معنے دوسرے کو شر سے اورتکلیف سے محفوظ رکھنے والے کے بھی ہیں۔کیونکہ تُسْلِمُوْنَ اَسْلَمَ سے نکلا ہے جس کامادہ