تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 155
سَلِمَ ہے اوراس کے معنے محفوظ ہوجانے کے ہوتے ہیں۔اَسْلَمَ اس کامتعدی ہے۔پس اس کے معنے ہوئے جودوسرے کوشراورنقصان سے محفوظ رکھے۔عربی زبان کا عام قاعد ہ ہے کہ ہرفعل لازم ثلاثی پرہمزہ زائدکرکے اسے متعدی بنایاجاسکتاہے۔عربوں میں عام طور پر گوسَلِمَ کالفظ محفوظ ہوجانے کے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔لیکن اَسْلَمَ متعدی کے اوراستعمال توہیں مگر سَلِمَ ماد ہ کے ان معنوں سے متعدی کے معنے موجودہ کتبِ لغت سے ثابت نہیں۔مگرا سلامی ادب میں ان معنوں کاجوعربی لغت کے عام قاعد ہ کے روسے جائز ہیں استعمال ثابت ہے۔مسلم کے معنی حدیث میں حدیث میں ہے اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہٖ وَیَدِہٖ( مسلم کتاب الایمان باب بیان تفاضل الاسلام۔۔۔۔)مسلمان وہ ہے جس کی زبان سےاورہاتھ سے سب وہ لوگ محفوظ رہتے ہیں جو اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔میرے نزدیک اس آیت میں یہ معنے بھی مراد ہیں اورمفہوم یہ ہے کہ ان نعمتوں کے دینے کی غرض تویہ تھی کہ تم محفوظ رہو اورخداکے شکر گزاربن کر دوسرے لوگوں کو شر سے محفوظ رکھو مگر تم نے توان نعمتوں کو ظلم کاذریعہ بنالیا ہے۔اس آیت سے ایک سیاسی نکتہ بھی نکلتا ہے اوروہ یہ کہ کسی اکثریت کو یہ نہیں چاہیے کہ اقلیت کو ملک سے نکال دے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ ظالموں کونہ نکالاجائے۔جوقوم کسی کے نظام کو توڑتی ہو ان کاتونکالنا ضرور ی ہے مگر مسلمان مکہ والوں کے نظام کو توڑتے نہیں تھے۔صرف یہ کہتے تھے کہ آزادی سے ہمیں رَبُّنَااللّٰہُ کہنے دو اورمذہب کے معاملہ میں جبر نہ کرو۔مگر باوجود اس کے کہ وہ ان کے نظام میں خلل نہ ڈالتے تھے وہ انہیں ایذادیتے تھے۔فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ پس اگر وہ (اب بھی )پھر جائیں تو(اس کی وجہ سےاے نبی تجھ پر کوئی الزام نہیں آئے گا کیونکہ )تیرے ذمہ صر ف الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۰۰۸۳ کھول کر پہنچادینا ہے۔تفسیر۔یعنی اس مصالحا نہ پیشکش کے بعد بھی اگریہ لوگ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اوربلاوجہ مسلمانوں کو دکھ دیں توتیراکام توصرف نصیحت ہے وہ تونے کردی۔اب یہ اپنے نیک و بد کے خود ذمہ وار ہیں۔