تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 126
وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ اورتیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف (بھی )وحی کی (ہوئی)ہے کہ توپہاڑوں میں اوردرختوں میں اورجو (انسان بُيُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا يَعْرِشُوْنَۙ۰۰۶۹ انگوروں وغیرہ کے لئے )ٹیک بناتے ہیں ان میں (اپنے )گھر بنا۔تفسیر۔وحی الٰہی کی ضرورت کے متعلق تیسری مثال وحی الٰہی کی ضرورت کے متعلق یہ تیسری مثال بیان فرمائی ہے اوراس میں پہلی دومثالوںسے بھی زیادہ وضاحت ہے۔یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے نحل یعنی شہد کی مکھی کی طرف بھی اس کے ظرف کے مطابق ایک وحی کی ہے اوروہ وحی یہ ہے کہ پہاڑوں پریادرختوں پر یاعرشو ں پر گھر بنا۔یہ وحی استعداد باطنی ہے جو شہد کی مکھی میں پیداکی گئی ہے۔تمام کائنات کا کارخانہ وحی الٰہی پر چل رہا ہے اوراس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمام کائنات کا کارخانہ وحی الٰہی پر چل رہاہے۔کسی پر وحی خفی نازل ہوتی ہے کسی پر وحی جلی۔مگر بہرحال سب کارخانہ وحی پر چل رہاہے یعنی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں اورمیلانوں پر چل کر ہی ہر چیز اپنا صحیح فرض اداکرتی ہے۔اگراس طریق کو چھوڑ دے توکبھی اپنا فرض اچھی طرح ادانہ کرسکے۔خدا تعالیٰ کی وحی کی وسعت اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کی وحی بہت وسیع ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی نہیں آسکتی(محمدیہ پاکٹ بک از مولانا عبد اللہ صاحب امرتسری ص ۶۱۴) حالانکہ اس آیت سے جانوروں کو بھی وحی ثابت ہوتی ہے۔اس وحی سے Instinct یعنی طبعی میلانوں کی طرف اشارہ ہے۔اس قسم کی وحی عارضی طورپر انسان کوبھی ہوتی ہے۔بعض دفعہ یکدم ا س کو کوئی خیال آتاہے جواس کے لئے بہت مفید ہوتاہے۔دنیا کے تمام موجد یہی کہتے ہیں کہ اکثرایجادوں کاخیا ل ان کے دل میں یکدم پیداہوایاایجاد کا خیال توعلمی تحقیق کے سلسلہ میں پیداہوالیکن کئی درمیانی مشکلات کاحل ایک فوری ذہنی لہرکے پیدا ہونے سے حاصل ہوا۔ایڈیسن جو سب سے بڑاموجد ہے۔اس نے اپنے متعلق صا ف لکھا ہے کہ میں نے ایک ہزارایجاد کی ہے ان میں سے سب سے بڑی ایجادیں ایک فوری خیال کی بناء پر ہوئی ہیں۔درحقیقت یہی وہ کیفیت ہے جسے صوفی لوگ