تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 121
الرَّاعِیْ وَھُوَ جَمْعٌ لَاوَاحِدَ لَہٗ مِنْ لَفْظِہٖ وَاَکْثَرُ مَایَقعُ عَلَی الْابِلِ۔اورمصباح میں یو ں لکھاہے کہ نَعَم چرنے والے جانوروں کو کہتے ہیں۔اورلفظ نعم جمع ہے۔اوراس کے مادہ (ن۔ع۔م)سے ا س کاکوئی مفرد نہیں (جیسے عربی میں نِسْوَۃٌ کالفظ ہے جس کے معنے عورتوں کے ہیں۔اس کامفرد اس کے مادہ میں سے نہیں آتا۔ہاں مفرد کے لئے اِمْرَء ۃٌ کالفظ استعمال ہوتاہے )وَقَالَ اَبُوْعُبَیْدٍ اَلنَّعَمُ: الْجَمَالُ فَقَطْ وَیُؤَنَّثُ وَیُذَکَّرُ۔اورابو عبید کہتے ہیں کہ نَعَم کالفظ صرف اونٹو ں پر بولاجاتا ہے۔اوریہ نراورمادہ دونوں پر استعمال ہوتاہے۔اس کی جمع اَنْعَامٌ ہے۔وَقِیْلَ النَّعَمُ :اَلْاِبِلُ خَاصَّةً وَالْاَنْعَامٌ ذَوَاتُ الْخُفِّ والظِّلفِ وَھِیَ الاِبِلُ وَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ۔اوربعض کہتے ہیں کہ نَعَم کالفظ اونٹوں کے لئے خاص ہے لیکن انعام میں اونٹ بھیڑ اورگائے سبھی شامل ہیں۔وَقِیْلَ یُطْلَقُ الْاَنْعامُ عَلٰی ھٰذِہِ الثَّلاثَۃِ فَاِذَاانْفَرَدَتْ الْاِبِلُ فَھِی نَعَمٌ۔وَاِنِ انْفَرَدَتِ الْغَنَمُ وَالْبَقَرُ لَمْ تُسَمَّ نَعَمًا اوربعض کے نزدیک انعام کالفظ بھیڑ اونٹ اورگائے کے مجموعہ پر بولاجاتا ہے۔اوراگر اونٹوں کو ان سے علیحد ہ کیاجائے تواونٹوں کے لئے نَعَم کا لفظ بولاجائے گامگر صر ف گائے بھیڑ بکریوں کونَعَم نہیں کہیں گے۔(اقرب) فَرْثٌ۔اَلسِّرْجِیْنُ مَادَامَ فِی الْکَرِشِ۔گوبر جب وہ اوجھری میں ہو فرث کہلاتاہے (اقرب) سَائغًا۔السَّائِغُ:اَلسَّھْلُ الْمُدْخِلُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ۔کھانے پینے کی آسانی سے حلق سے اترنے والی اشیا ء سائغ کہلاتی ہیں۔(اقرب) تفسیر۔انعام میں عبرت یہ فرماکر کہ چارپایوں میں بھی تمہارے لئے عبرت ہے کیالطیف بات بیان فرمائی ہے۔چارپائے غذاکے طور پر بھی کام آتے ہیں۔ان میں سے دود ھ بھی لیاجاتا ہے ان کا گوشت بھی کھایاجاتاہے۔اس کے علاوہ انعام اسبا ب اٹھانے کے بھی کام آتے ہیں۔انعام کا بوجھ اٹھانے کے لئے کام میں استعمال ہونا عرب میں زیادہ تراونٹ اس کام آتے تھے کیونکہ وہاں گائے بیل کم ہوتے ہیں۔لیکن دوسرے ملکوں میں بیل بھی بوجھ اٹھا کرلے جا نے میں بہت مدد دیتے ہیں۔رہ گئیں بکریاں اوربھیڑیں سو بعض پہاڑی ملکوں میں ان سے بھی اسباب اٹھانے کاکام لیا جاتا ہے خصوصاً جبکہ سفراونچے پہاڑوں کا ہو توان جانور وں پر تھوڑاتھوڑ ااسباب لادکر گلّے پالنے والے کرایہ کافائدہ بھی اٹھالیتے ہیں۔میں نے کانگڑہ میں دیکھا ہے کہ لاہول کے پہاڑوں پر سے آنے والے گڈریے اپنے اسباب کثرت سے بھیڑوں پر لاد کر لاتے ہیں۔سینکڑوں بھیڑوں پر دس دس بیس بیس سیر اسباب لداہواعجیب لطف دیتا ہے۔پس سب انعام ہی