تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 120
لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَؒ۰۰۶۶ تیارہوتے)ہیں ان کے لئے اس میں یقیناًایک(بہت بڑا)نشان (پایاجاتا)ہے تفسیر۔پانی سے مراد کلام الٰہی اس جگہ پانی سے مرادکلام الٰہی ہے۔کیونکہ پانی کے نزول کے ذکر کے بعد لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ فرمایا ہے۔یعنی ا س پانی کے نزول میں سننے والوں کے لئے نصیحت ہے۔مادی پانی کے نزول میں سننے والوں کے لئے نشان نہیں ہوتا۔بلکہ دیکھنے والوں یا سمجھنے والوں یاغورکرنےوالوں کے لئے نشان ہوتاہے۔سننے کے لفظ سے صاف معلو م ہوتاہے کہ یہاں روحانی پانی یعنی کلام الٰہی مراد ہے اورپہلے نبیوں کی وحیو ں کی طرف توجہ دلائی ہے اوربتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کئی دفعہ آسمان سے روحانی پا نی اتار چکا ہے اوراس کے ذریعے سے دنیا کو زندہ کرچکا ہے اگر تم پہلے انبیاء کے حال سنتے توضرو راس صداقت کو تسلیم کرتے۔اَحْیَابِہِ الْاَرْضَ سے ھُدًی وَّ رَحْمَةً ہونے کی دلیل اَحْیَابِہِ الْاَرْضَ سے وَھُدًی وَّرَحْمَۃً کی دلیل دی کہ یہ کلام کیوں مسلمانوں کے لئے رحمت اورہدایت ثابت نہ ہوگا جبکہ سا بق کلام مردہ قوموں کو زندہ کرتے چلے آئے ہیں۔جو اس وقت ہواوہی اب بھی ہو گا۔وَ اِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ اور تمہارے لئے چارپایوںمیں(بھی)یقیناًنصیحت حاصل کرنے کاذریعہ (موجود )ہے(کیاتم دیکھتے نہیں کہ ) بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآىِٕغًا جوکچھ ان کے پیٹوں میں (گند وغیرہ بھرا)ہوتا ہے اس میں سے یعنی گوبر اورخو ن کے درمیا ن سے ہم تمہیں پینے لِّلشّٰرِبِيْنَ۰۰۶۷ کے لئے (پاک اور)صاف دودھ (مہیا کر )دیتے ہیں جو(اس کے )پینے والوں کے لئے خوشگوار (بھی )ہوتا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْاَنْعَامُ اَلنَّعَمُ: اَلْاِبِلُ وَالشَّاءُ وَقِیْلَ خَاصٌّ بِالْاِبِلِ۔نعم کالفظ اونٹ اور بکریوں پر بولاجاتا ہے اوربعض کہتے ہیں کہ یہ صرف اونٹوں پر بولاجاتاہے۔وَقَالَ فِی الْمِصْبَاحِ النَّعَمُ:اَلْمَالُ