تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 109

دوسرے معنے وہی ہیں جواوپر بیان ہوچکے ہیں یعنی ان ہستیوں کی طرف خدا تعالیٰ کے افعال کو منسوب کرتے ہیں جن کے خداہونے کی ان کے پا س کوئی دلیل نہیں۔ان معنوں کے روسے لَایَعْلَمُوْنَ کی ضمیر یَجْعَلُوْنَ کے فاعل کی طرف پھر ے گی۔تَاللّٰهِ لَتُسْـَٔلُنَّ کا مطلب تَاللّٰهِ لَتُسْـَٔلُنَّ پوچھنے سے مراد خالی دریافت کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ سزادیناہوتا ہے اوریہ ہر زبان و ملک کامحاورہ ہے۔مطلب یہ کہ تمہارے اس افتراء کی تم کو ضرور سزاملے گی۔بعض لوگوں کا تَاللّٰهِ کے لفظ سے غلط استدلال بعض نادان تَاللّٰهِ کے لفظ سے یہ استدلال کیا کرتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ کلام خدا کانہیں ورنہ یہ کیوں کہاجاتاکہ خدا کی قسم۔بلکہ یوں کہنا چاہیے تھا کہ ہمیں اپنی قسم ہے(تفسیر القرآن از پادری ویری جلد ۳ ص ۳۵ )۔لیکن یہ استدلال درست نہیں کیونکہ شاہانہ کلام میں اس قسم کا طرز بیان جائز ہوتاہے۔کیونکہ نام کے اظہار سے رُعب پیداکرنا مقصود ہے۔با پ اپنے بیٹے پر اثر ڈالنے کے لئے بعض دفعہ یہ کہتاہے کہ تمہاراباپ تم کو یہ حکم دیتا ہے۔اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ بولنے والا باپ نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔اسی طرح بادشاہ خاص زوردینے کے لئے کہاکرتے ہیں کہ تمہارابادشاہ تم کو یوں حکم دیتا ہے اوراس سے یہ مراد نہیں لی جاسکتی کہ بادشاہ اس وقت اپنی بادشاہت کا انکار کر کے کسی اَورکی بادشاہی کااعلان کررہا ہے۔وَ يَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ اوروہ اللہ (تعالیٰ)کی طرف لڑکیاں منسوب کرتے ہیں (یہ کیساجھوٹ ہے)وہ پاک(ذات)ہے اور وَ لَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ۰۰۵۸ (لطف یہ کہ)انہیں (اللہ تعالیٰ کی طرف سے )وہ کچھ حاصل ہے جو وہ چاہتے ہیں۔حلّ لُغَات۔سُبْحَانَہٗ کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۱۹۔سُبْحَانَ اللہِ اَیْ اُبْرِّیُٔ اللہَ مِنَ السُّوْءِ بَرَاءَ ۃً۔سبحان کے معنی عیوب سے پاک سمجھنے اور پاک کرنے کے ہیں۔(اقرب) یَشْتَھُوْنَ :یَشْتَھُوْنَ اِشْتَہٰی سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اوراِشْتَہٰی کے معنے ہیں۔کسی چیز کو پسند کیا۔اوراس کے لینے کی تمنا کی (اقرب) پس وَلَہُمْ مَّایَشْتَھُوْنَ کے معنے ہوں گے۔ان کو وہ کچھ حاصل ہے