تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 110

جو وہ چاہتے ہیں۔تفسیر۔اس آیت کایہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کو اس لئے ناراضگی ہے کہ وہ اس کی طر ف بیٹے کیوںمنسوب نہیں کرتے اوربیٹیاں کیوں منسوب کرتے ہیں۔وہ توبیٹوں کے عقیدہ پر بھی ویسا ہی ناراض ہوتاہے جیسے بیٹیوں کے عقیدہ پر۔چنانچہ دوسری جگہ فرمایا ہے تَکَادُالسَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدّاً اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا(مریم :۹۲) قریب ہے کہ آسمان پھٹ کرگرجائیں اورزمین شق ہوجائے اورپہاڑ گرجائیں کیونکہ یہ لوگ رحمٰن خدا کاایک بیٹاتجویز کرتے ہیں۔پس بیٹوں کا ذکر کرکے مشرکوں کی کم عقلی کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے اوریہ بتایا ہے کہ غلط راہ پر چل کر انسان ایسی باتوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جو خود اس کےاپنے مسلّمات کے رو سے قابل اعتراض ہوتی ہیں۔چنانچہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف بیٹیاں منسوب کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ بیٹیوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔اگرعقل سے کام لیتے توجس چیز کو یہ اپنے لئے ذلت کاموجب سمجھتے ہیں اس چیزکو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کرتے۔یہ اس امر کی دلیل بیان کی گئی ہے کہ الہام کے بغیر ہدایت کاراستہ تلاش کرنے میںانسان کیسی کیسی موٹی غلطیاں کرجاتا ہے۔پھر باریک مسائل میں وہ کیوں غلطی نہ کرے گا۔پس سچا راستہ بتاناصر ف اللہ تعالیٰ ہی کاکام ہے۔اس کے جواب میں ممکن تھا کہ وہ کہہ دیتے کہ ہم تو خدا کی طرف کوئی برائی منسوب نہیں کرتے۔لڑکیا ںبھی خدا کی ہی ایک نعمت ہیں اُسی کی پروردہ ہیں۔اس لئے یہ کوئی عیب نہیں۔اس کاجوا ب اگلی آیت میں دیاگیاہے۔وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ اورجب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش )کی بشارت دی جائے تو اس کا منہ جب کہ وہ اپنے غیظ (وغضب) كَظِيْمٌۚ۰۰۵۹ کو (سینہ میں )دبارہاہوتا ہے سیاہ ہوجاتا ہے۔حلّ لُغَات۔بُشِّرَبُشِّرَ بَشَّرَ سے مجہول کاصیغہ ہے۔اوربشَّرَہٗ کے معنے ہیں اَخْبَرَہٗ فَفَرِحَ اس کوایسی خبر دی جس سے وہ خوش ہوا(اقرب) کَظِیْمٌ کَظِیْمٌ کے معنے ہیں اَلْمَکْرُوْبُ۔رنجیدہ (اقرب)مزید تشریح کے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر۸۵۔