تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 105
ہونے کے لئے فَعْلَۃٌ کاوزن لاتے ہیں اورنِعْمَۃٌ فِعْلَۃٌ کے وزن پر ہے اس لئے اس میں نعمت والی حالت کے معنے پائے جاتے ہیں۔نِعْمَۃُ اللہِ:مَااَعْطَاہُ اللہُ لِلْعَبْدِ مِمَّا لَا یَتَمَنّٰی غَیْرَہُ اَنْ یُعْطِیَہٗ اِیَّاہُ۔اللہ کی نعمت و ہ ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو دیتاہے اورپھر بندہ اللہ کے سواکسی اورسے یہ خواہش نہیں رکھتا کہ وہ اسے دے۔اس کی جمع اَنْعُمٌ اورنِعَمٌ آتی ہے اورجب فُلَانٌ وَاسِعُ النِّعْمَۃِ کہیں تواس کے معنے ہوں گے وَاسِعُ الْمَالِ یعنی فلاں مالدارہے۔(اقرب) اَلضُّرّ اَلضُّرّ کے معنے کے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر ۸۹۔اَلضُّرُّ ضِدُّ النَّفْعِ۔ضُرّ کے معنے ہیں نقصان۔سُوْءُ الْحَالِ وَالشِّدَّۃِ۔تنگ حالی وَفِی الْکُلّیَاتِ اَلضَّرُّ بِالْفَتْحِ شَائِعٌ فِی کُلِّ ضَرَرٍ وبِالضَّمِّ خَاصٌ بِمَا فِی النَّفْسِ کَمَرَضٍ وَھُزَالٍ کلیات میں یوں لکھا ہے کہ ضَرٌّ کے معنے خاص اس تکلیف کے ہیں جو خود نفس میں ہو جیسے بیماری یا لاغر پن وغیرہ لیکن ضُرٌّ کا لفظ عام ہے اور ہر تکلیف پر بولا جاتا ہے۔(اقرب) تَجْأَرُوْنَ تَجْأرُوْنَ جَأرَ سے مضارع جمع مخاطب کاصیغہ ہے۔اورجَأَرَالدَّاعِیَ جَأْرًا کے معنے ہیں رَفَعَ صَوْتَہٗ بِالدُّعَاءِ پکارنے والے نے اونچی آواز سے پکارا۔جَأَرَاِلَی اللہِ بِالدُّعَاءِ:ضَجَّ وَتَضَرَّعَ وَاسْتَغَاثَ اللہ کے حضور عاجزی سے فریاد اوردعاکی اور اُسی سے مد دچاہی۔وَمِنْہُثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْـَٔرُوْنَ اورآیت اِذَامَسَّکُمْ … الخ میں تَجْأَرُوْنَ کے معنی عاجز ی کرنے اورفریاد کرنے کے ہیں(اقرب) تفسیر۔توحید کی تائید میں ان دلائل کا ذکر جو کفار کی جانوں میں موجود تھے اس آیت میں ان آیات اورنشانات کا ذکر فرمایا ہے جوتوحید کی تائید میں خود ان کی جانوں میں موجودتھے۔فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تم کو سب نعمتیں ملی ہیں۔کیونکہ جس قدرنعمتیں ہیں وہ ایک ہی نظام کاحصہ ہیں۔مگر باوجوداس کے تم بعض نعمتوںکو دوسرے معبودوں کی طرف منسوب کردیتے ہو۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ جب کبھی کوئی سخت قوی آفت آتی ہے تم کو اپنے معبودان باطلہ بھول جاتے ہیں اوراسی ایک خدا کی طرف جو حقیقی خداہے جھک جاتے ہو۔یہ اس امر کاثبوت ہے کہ تمہارے دل شرک پر مطمئن نہیں۔پس جب شرک پر تم خود مطمئن نہیں تواس پر اس قدر زورکیوں دیتے ہو۔مشرکین کا تکلیف کے وقت معبودان باطلہ سے اعراض یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ شدید مصائب کے وقت میں لوگ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جھکتے ہیں۔مسیحی جو مسیح کو خدائی کا مقام دیتے ہیں اس جنگ میں جو