تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 104

۱۔یہ کہ وہ پہلے خدا کی اطاعت کرے اوراس کے احکام کے ماتحت چلے۔اس صورت میں اس کاہونا نہ ہونابرابر ہے۔کیونکہ جوکام ایک کرسکتاہے دوکو اس کام پر لگانے کی کیاضرورت ؟ ۲۔وہ پہلے خداکے علاوہ کوئی اورنیاکام کرتاہو اوراس کاقانون اورنظام الگ ہو۔اس صورت میں ضروری ہے کہ نظام عالم میں اختلاف نظر آوے۔لیکن چونکہ واقعہ میں ایسا نہیں ہے لہٰذامانناپڑے گا کہ دوسراخداہی کو ئی نہیں۔صرف ایک ہی واحد ویگانہ خداہے۔لَهُ الدِّيْنُ وَاصِبًا۔اس میں بتایا ہے کہ دوسری صورت ایک سے زیادہ خدائوں کی یہ ہوسکتی تھی کہ ایک خداایک زمانہ تک کام کرتا اوراس کے بعد وہ معطل ہوجاتااوراس کی جگہ دوسراخدالے لیتا۔لیکن یہ بات بھی واقعا ت سے غلط ثابت ہورہی ہے۔جوقانون قدرت شروع سے چلایا گیا ہے وہی آج تک چلا آرہاہے۔لاکھو ں بلکہ کروڑو ں سال گذرے مگر اس کے قانون میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔اس کاقانون اٹل ہے پس ایسے خدا کی موجودگی میں کہ جو زمین و آسمان کامالک ہو اورجس کاقانون ازل سے ابد تک ہو دوسرے خدا کاوجو د ماننا سخت غلطی اور بے وقوفی ہے۔وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ اورجونعمت بھی تمہارے شامل حال ہے وہ اللہ (تعالیٰ)ہی کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں (کوئی تنگی اور)تکلیف فَاِلَيْهِ تَجْـَٔرُوْنَۚ۰۰۵۴ پہنچتی ہے تو(اس وقت بھی)تم اسی کے حضورفریاد کرتے ہو۔حلّ لُغَات۔نِعْمَۃٍ اَلنِّعْمَۃُ کے معنے ہیں :اَلصَّنِیْعَۃُ وَالْمِنَّۃُ۔احسان۔مَااَنْعَمَ بِہِ عَلَیْکَ مِنْ رِزْقٍ وَمَالٍ وَغَیْرِہٖ۔وہ مال یا رزق یا اس کے علاوہ کوئی اورچیز جو بطورانعا م ملے۔اَلْمَسَرَّۃُ۔خوشی۔اَلْیَدُ الْبَیْضَاءُ الصَّالِحَۃُ۔ایسااحسان جس میں کوئی کدورت اورکمی نہ ہو۔وَفِیْ الْکُلّیَاتِ۔’’اَلنِّعْمَۃُ فی اَصْلِ وَضْعِھَا اَلْحَالَۃُ الَّتِیْ یَسْتَلَذُّ ھَا الْاِنْسَانُ وَ ھٰذَامَبْنِیٌّ عَلٰی مَااشْتُھِرَ عِنْدَھُمْ مِنْ اَنَّ الفِعْلَۃَ بِالْکَسْرِ لِلْحَالَۃِ وَبِالْفَتْحِ لِلْمَرَّۃِ۔‘‘اورکلیات میں یوں لکھا ہے کہ نعمت اصل وضع کے لحاظ سے اس حالت کو کہتے ہیں جس سے انسان لذت اٹھاتاہے اوریہ اس بناء پر ہے کہ حالت بیان کرنے کے لئے عربی زبان میں فِعْلَۃٌ اور کسی کام کے ایک دفعہ