تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 74

کو بالکل بدل دیا اور دونوں امور کے متعلق نیا نقطۂ نگاہ دنیا کے سامنے پیش کرکے گویا ایک نئی دنیا بسادی۔قطع ارض کے معنے (۲) دوسری صفت قطع ارض بتائی۔قطع ارض کے معنے مسافت کے چھوٹا ہوجانے کے بھی ہوسکتے ہیں۔یعنی وہ کتاب سب زمین میں آسانی سے پھیل جائے اور یہ بھی کہ زمین اس کے ذریعہ سے کاٹ لی جائے۔یعنی اس کی پیشگوئیوں کے مطابق دشمنوں کا علاقہ کاٹ کر مسلمانوں کو دے دیا جائے۔یہ دونوں باتیں بھی قرآن کریم کو حاصل ہوئیں۔یعنی آناً فاناً وہ دنیا میں پھیل بھی گیا اور اس نے اپنے ماننے والوں کے دلوں میں ایسا جوش پیدا کر دیا کہ وہ قرآن ہاتھ میں لے کر سب دنیا میں پھیل گئے اور ایک نسل کے اندر ساری دنیا پر اس کے ماننے والے چھا گئے اور یہ بھی ہوا کہ اس کی برکت سے اور اس کی پیشگوئیوں کے مطابق اس کے مخالفوں کے ملک کاٹ کاٹ کر مسلمانوں کی املاک میں شامل کر دیئے گئے۔مردوں کے بلوائے جانے سے مراد روحانی مردوں کا زندہ ہو کر بولنا ہے (۳) تیسری صفت یہ بتائی کہ اس کے ذریعہ سے مردوں کو بلوایا جائے۔اس کے بھی کئی معنے ہوسکتے ہیں۔مثلاً یہ کہ اس کی شہادت میں مردے بولنے لگ جائیں۔چونکہ مردوں کا اس دنیا میں زندہ ہونا قرآن تعلیم کے خلاف ہے اس لئے ان معنوں کو مدنظر رکھ کر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ مردے خواب میں آکر بولیں یا کشف میں بولیں۔سپر چولزم کی طرف میلان تجربہ شاہد ہے کہ لوگ اپنے آباء کی شہادت کو بہت مانتے ہیں۔اس زمانہ میں بھی دیکھا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کئی لوگ دلائل سے مان لیتے ہیں لیکن پھر بھی یہ خواہش کرتے ہیں کہ اگر رسول کریم صلعم کی زیارت ہو اور وہ کہہ دیں تو ہم مان لیں گے۔یورپ میں اس وقت سپرچولزم کی طرف شدید میلان بھی اسی خواہش کی وجہ سے ہے۔پس اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ بھی اپنے آباء سے شدید تعلق رکھتے ہیں اور بظاہر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے وفات یافتہ آباء کہہ دیں تو ہم مان لیں گے لیکن جب آباء کی شہادتیں تورات انجیل سے پیش کی جائیں تو پھر انکار کر دیتے ہیں۔یا حضرت ابراہیم کی شہادت مکہ والوں کو پیش کی جائے تو بھی منکر ہی رہتے ہیں۔یا پھر لوگوں کو خوابوں اور کشوف میں ان کے آباء آکر قرآن کریم کی صداقت پر گواہی دیں تب بھی ماننے سے انکار کرتے ہیں۔اس زمانہ میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ تو رؤیا پر ایمان لاتے ہیں کئی لوگوں کو رسول کریم صلعم یا دوسرے بزرگ بھی رؤیا میں نظر آکر مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی شہادت دے جاتے ہیں۔مگر لوگ نہیں مانتے۔میں نے دیکھا ہے کہ ہزارہا آدمیوں کو رؤیا اور کشوف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی وفات یافتہ بزرگوں کی زبانی بتائی گئی ہے۔