تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 75
معلوم ہوتا ہے یہی سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھا مگر آج کل کی طرح اس زمانہ میں بھی کئی لوگ ان رؤیا اور کشوف سے فائدہ نہ اٹھاتے تھے۔مردوں کے بلوائے جانے سے دوسرے معنے یہ ہوسکتے ہیں کہ جو لوگ روحانی مردے تھے قرآن کریم کے ذریعہ سے انہیں بلوا دیا جائے گا۔یعنی وہ صرف زندہ ہی نہ ہو جائیں گے بلکہ بولنے بھی لگیں گے۔یعنی اعلیٰ علوم ان کی زبان پر جاری ہوجائیں گے۔اور وہ دنیا کے لئے ہادی ہو جائیں گے۔قرآن کریم میں متواتر روحانیت سے محروم لوگوں کو مردہ کہا گیا ہے اور ان کے روحانیت حاصل کرنے کو زندگی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔مثلاً فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ (الانفال:۲۵) اے مومنو! جب خدا اور اس کا رسول تم کو زندہ کرنے کے لئے بلایا کریں تو ان کی آواز کو قبول کیا کرو۔پس معلوم ہوا قرآنی اصطلاح کی رو سے روحانیت سے بُعد موت اور اس کا حصول زندگی کہلاتا ہے۔ان معنوں کی رو سے مردوں کے بلوا دینے کے معنے روحانیت سے دور لوگوں کا اسلام لانا اور روحانیت میں ترقی کرکے دنیا کے لئے ہادی ہو جانا لئے جائیں گے۔چنانچہ اس کی مثالیں بکثرت شروع اسلام میں پائی جاتی ہیں۔اسلام کے اشد ترین دشمنوں کا اسلام لانا حضرت عمرؓ جیسے اشد مخالف جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے گھر سے نکلے تھے اسلام لاکر انہوں نے کس قدر اسلام کے لئے قربانی کی اور اسلام کی اشاعت میں کس قدر حصہ لیا۔ایسا ہی خالد ؓبن ولید جو بڑے مخالف اور دشمن تھے بعد میں مسلمان ہو کر اسلام کے لئے ایک نہایت مفید وجود ثابت ہوئے۔ایسا ہی عکرمہ جو ابوجہل کے لڑکے تھے اور اسلام کے خطرناک مخالف تھے آخر اسلام لائے اور اشاعت اسلام میں جان تک کی پرواہ نہ کی۔بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا۔سب امور خدا تعالیٰ کے ہی قبضہ میں ہیں۔یعنی مذکورہ بالاامور بظاہر ناممکن معلوم ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ لو گے کہ کس طرح یہ نشان قرآن کریم کی تائید میں ظاہر ہوتے ہیں۔اس آیت میں یَایْئَسُ کے معنی یَعْلَمُ کے ہیں اَفَلَمْ يَايْـَٔسِ۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا گیا ہے یَایِئَسُ کے معنے اس جگہ یَعْلَمُ کے ہیں۔یعنی کیا کفار کو یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ سب کو ہدایت دے۔اور آگے اس ہدایت کا وقت بتایا کہ اس قوم پر عذاب پر عذاب آئیں گے اور لشکر کے بعد لشکر چڑھائی کرے گا۔(قارعہ سے مراد لشکر ہے) اور آخری لشکر ان کے گھروں کے پاس جاکر اترے گا۔یعنی مکہ پر حملہ ہوگا تب وہ اوپر کا وعدہ پورا ہوگا۔یعنی یہ وعدہ کہ خدا چاہے تو سب کو ہدایت دے دے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔متواتر اسلام