تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 70
َذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ اسی لئے ہم نے تجھے ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے کئی قومیں (آنے والے کی راہ دیکھتی) گزر چکی تھیں بھیجا ہے لِّتَتْلُوَاۡ عَلَيْهِمُ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ وَ هُمْ يَكْفُرُوْنَ تاکہ جو(کلام) ہم نے تیری طرف وحی کیا ہے تو وہ انہیں اس حالت میں پڑھ کر سنائے کہ وہ رحمان (کے فیضان) کا بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ انکار کر رہےہیں۔تو کہہ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اورا سی کی طرف اِلَيْهِ مَتَابِ۰۰۳۱ (ہرآن) میرا رجوع ہے۔حلّ لُغَات۔مَتَابَ۔تَابَ کا مصدر ہے اور تَابَ اِلَی اللہِ مِنْ ذَنْبِہٖ کے معنے ہیں رَجَعَ عَنِ الْمَعْصِیَّۃِ گناہ سے لوٹا۔اور مَتَاب کے معنے ہوئے گناہ سے لوٹ کر آنا۔(اقرب) مَتَابِ۔اصل میں مَتَابِیْ تھا یاء کو حذف کر دیا گیا اور باء کے کسرہ پر اکتفا کیا گیا۔تفسیر۔کیا لطیف بات بیان فرمائی کہ یہ عذاب مانگ رہے ہیں مگر باوجود اس کے ہم اپنی رحمانیت کے ماتحت عذاب میں تاخیر ڈال رہے ہیں۔پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحمان نہیں ہے۔اگر ہم رحمان نہ ہوتے تو تم کب کے تباہ ہوچکے ہوتے۔تمہارا وہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے تم بچے ہوئے ہو۔آخر ہماری رحمانیت ہی تو تمہاری حفاظت کررہی ہے۔كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ سے یہ بتایا ہے کہ جس قسم کے مطمئن دل والے اور اچھے انجام کا ذکر ہم نے کیا ہے تیری بعثت اسی غرض سے ہے کہ ایسے اعلیٰ روحانی اور اخلاقی مقام والے لوگ تیرے ذریعہ سے بھی پیدا ہوں۔قُلْ هُوَ رَبِّيْ اَلْآیہ۔میں اس طرف اشارہ ہے کہ لوگ اعتراض کریں گے کہ تم عرب جیسی سخت دل قوم کو کہاں اس قسم کا بنا سکو گے۔مگر تم کہنا کہ یہ میرا کام تو نہیں خدا تعالیٰ کا کام ہے۔میں اس پر توکل کروں گا اور بار بار اس کی طرف جھکوں گا تو یہ مقصد پورا ہو جائے گا۔